شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 16 جنوری 2026ء کو زاہدان کی نمازِ جمعہ میں حالیہ عوامی احتجاجات کا حوالہ دیتے ہوئے ان واقعات میں ’’ہزاروں عوام اور مظاہرین کے قتل‘‘ کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور جاں بحق ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا: ہم، صوبے کے عوام اور پورا ایران، غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں شریک ہیں اور اس سانحے پر سوگوار ہیں۔
ایرانی قوم نے مسائل کے حل اور امتیاز و عدم مساوات کے خاتمے کی امید پر اسلامی جمہوریہ کو ووٹ دیا تھا
اہلِ سنت زاہدان کے خطیبِ جمعہ کے دفتر کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا: ایرانی قوم نے انقلاب کی کامیابی کے بعد 1979ء میں بھاری اکثریت کے ساتھ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کو اپنا نظامِ حکومت اس امید پر منتخب کیا تھا کہ ان کے دینی اور دنیوی مسائل حل ہوں گے اور پالیسیاں اس طرح مرتب ہوں گی کہ دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں۔ اس وقت عوام کو رسول اللہ ﷺ، صحابہ اور اہلِ بیت کے دور کی یاد کے ساتھ یہ امید تھی کہ قوموں، مذاہب اور ادیان کے درمیان، نیز مرد و عورت سب کے درمیان امتیاز ختم ہوگا، مساوات اور بھائی چارہ قائم ہوگا اور ماضی کے مسائل و خدشات دور ہو جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا: لیکن افسوس کہ اس عرصے میں بہت سے معاملات میں من مانی کی گئی اور مسائل پیدا ہوئے۔ کچھ عرصے سے ایرانی عوام سیاسی، معاشی اور دیگر امور پر سراپا احتجاج ہیں۔ 2019 اور 2021ء کے احتجاجات میں بھی عوام نے اپنے مطالبات پیش کیے تھے۔
ایرانی عوام اندرونی و خارجی پالیسیوں اور معاشی و معاشرتی حالات سے ناخوش ہیں
ممتاز سنی عالمِ دین نے کہا: ایرانی قوم جو دنیا کی بہترین اقوام میں سے ہے، طویل عرصے تک صبر و برداشت سے کام لیتی رہی، مگر اب غربت اور معاشی مشکلات کے باعث شکایات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ طویل پابندیوں، بدانتظامی اور مالی بدعنوانیوں نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا اور اس طویل مدت میں پابندیوں کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر حل نہیں نکالا گیا، جس کے نتیجے میں عوام شدید دباؤ میں آ گئے اور آج اندرونی و خارجی پالیسیوں اور معاشی و معاشرتی حالات سے ناراض ہیں۔
حکام کو عوام سے مکالمہ کرنا چاہیے تھا
مولانا عبدالحمید نے کہا: بہترین حکمتِ عملی یہ تھی کہ حکام سیاسی اور معاشی امور میں عوام سے بات چیت کرتے۔ بارہا کہا گیا ہے اور آج بہت سے ماہرین بھی مانتے ہیں کہ معیشت سیاست سے جڑی ہوئی ہے، اور اگر پالیسیاں درست کر دی جائیں تو معاشی مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ اندرونی اور خارجی پالیسیوں میں تبدیلی لائیں تاکہ قوم آپ کے ساتھ ہو۔ یہ تمام باتیں خیرخواہی اور دردمندی کے تحت کہی گئیں۔ ہم نہ کسی منصب کے خواہاں ہیں اور نہ اقتدار کے۔
حاکم کو سخت مزاج نہیں بلکہ عوام کے سامنے متواضع ہونا چاہیے
مولانا عبدالحمید نے عوام کے مقابلے میں حاکم کی تواضع پر زور دیتے ہوئے کہا: عوام کے سامنے حاکم کی عاجزی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ رسول اکرم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے: ’’اور ایمان والوں کے لیے اپنا بازو جھکا دو‘‘۔ اس آیت میں ایک حاکم کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ رہے اور ان کی بات سنے۔
انہوں نے کہا: مدینہ میں کچھ منافقین طنزاً کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ سب کی بات سن لیتے ہیں، حتیٰ کہ جھوٹوں کی بھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ نبی ﷺ بدخو اور سخت مزاج نہیں تھے۔ اگر وہ سخت مزاج ہوتے تو لوگ ان کے گرد جمع نہ رہتے۔ جو حکمران واقعی رسول اللہ ﷺ کی سیرت پر ہو، اسے عوام کی بات سننے والا ہونا چاہیے۔
حضرت حسنؓ نے فرمایا: میں اپنی حکومت کی بقا کے لیے خونریزی نہیں چاہتا
خطیبِ زاہدان نے کہا: اگر ہم خود کو حضرت علیؓ سے منسوب کرتے ہیں تو دیکھیں کہ انہوں نے فرمایا کہ اگر عدل قائم نہ ہو تو یہ حکومت میرے لیے بے وقعت ہے۔ حضرت علیؓ دنیا کے مال کے پیچھے نہیں گئے بلکہ عوام کے ساتھ رہے۔ حضرت حسنؓ کے پاس وسیع ترین اسلامی حکومت اور فوجی برتری تھی، پھر بھی انہوں نے حضرت معاویہؓ سے صلح کی اور فرمایا کہ میں مسلمانوں کا خون بہانا نہیں چاہتا، میں اپنی حکومت کی خاطر قتل و غارت نہیں کروں گا۔
حالیہ احتجاجی لہر میں مناسب طریقہ یہ تھا کہ عوام کی بات سنی جاتی
انہوں نے کہا: ایرانی عوام اس وطن کے اصل مالک اور ہم سب کے محسن ہیں، اور تمام حکام بالواسطہ یا بلاواسطہ انہی کے ووٹ سے آئے ہیں، لہٰذا عوام کی رضامندی ضروری ہے، مگر بدقسمتی سے ان کی بات نہیں سنی گئی۔
انہوں نے کہا: حالیہ احتجاجات میں مناسب طریقہ یہی تھا کہ عوام کے مطالبات سنے جاتے اور وہ تبدیلیاں کی جاتیں جو پوری قوم کی خواہش ہیں۔ عوام کی خواہش پوری کرنا اللہ کی رضا کے مطابق ہے۔ ہم سب ایرانی ہیں اور ایک دوسرے کے لیے زیادہ ہمدردی کے مستحق ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ان واقعات میں جو بھی نقصان ہوا ہے وہ ایرانی قوم ہی کا نقصان ہے۔ اگر مارے جائیں تو بھی ہم ایرانی ہیں اور اگر ماریں تو بھی۔ حکمرانوں کو سب سے زیادہ برداشت اور تحمل دکھانا چاہیے اور عوام کی بات سننی چاہیے۔
حالیہ احتجاجات میں ہزاروں افراد مارے گئے، ہم غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں شریک ہیں
مولانا عبدالحمید نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: حالیہ احتجاجات میں، خاص طور پر گزشتہ ہفتے جمعہ اور ہفتہ کی راتوں میں، ہزاروں عوام اور مظاہرین جاں بحق ہوئے۔ ہم اس قتلِ عام کی سخت مذمت کرتے ہیں، جاں بحق افراد کے تمام خاندانوں سے تعزیت کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ایرانی قوم ایک خاندان کی مانند ہے اور اس سانحے میں پورا ملک سوگوار ہے۔ ہم خود کو تہران اور دیگر شہروں میں شہید ہونے والوں کے خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک سمجھتے ہیں۔
احتجاجوں کے دوران گرفتار شہریوں اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے
امامِ جمعہ زاہدان نے گرفتار شدگان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: جو لوگ حالیہ خیزش میں گرفتار کیے گئے ہیں، انہیں رہا کیا جائے تاکہ یہ اقدام غم زدہ خاندانوں اور پوری قوم کے لیے تسلی کا باعث بنے۔ میں پھر دہراتا ہوں کہ سیاسی قیدیوں کو بھی آزاد کریں اور ان کی بات سنیں۔
زبردستی اعتراف لینا دین اور سچائی کے خلاف ہے، جھوٹی رپورٹیں مسائل کو پیچیدہ بناتی ہیں
مولانا عبدالحمید نے جبری اعتراف کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا: لوگوں کو زبردستی اعتراف پر مجبور کرنا یا ایسے کاموں پر دستخط کروانا جو انہوں نے کیے ہی نہیں، دین اور سچائی کے خلاف ہے اور اسلام اسے قبول نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا: تحریک مہسا کے احتجاجات اور زاہدان کے تیس ستمبر کے افسوسناک واقعے کے بعد بعض نے دعویٰ کیا کہ مسلح گروہوں اور علیحدگی پسندوں نے لوگوں کو قتل کیا، مگر عوام کے صبر اور حقائق کے دفاع سے ثابت ہوا کہ ان واقعات میں کسی گروہ یا علیحدگی پسند کا کردار نہیں تھا۔ جھوٹی رپورٹیں حقائق کو چھپاتی ہیں اور مسائل کو مزید پیچیدہ کرتی ہیں۔
پرامن اور غیرتشدد احتجاج عوام کا حق ہے
مولانا عبدالحمید نے اختتام پر ایک بار پھر پرامن احتجاج کے قانونی حق پر زور دیتے ہوئے کہا: پرامن احتجاج عوام کا حق ہے، مگر اسے تشدد میں نہیں بدلنا چاہیے۔ کوئی دکان نہ جلائی جائے، شیشے نہ توڑے جائیں اور کسی پر حملہ نہ کیا جائے، بلکہ مطالبات بیان کیے جائیں اور انہیں سنا جانا چاہیے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام