انھوں نے کہا کہ پاکستان کو امن مذاکرات سے الگ رہنا چاہیے کیونکہ پہلے ہی طالبان کو کہا جاتا ہے کہ انھیں پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے۔ ایکسپریس نیوز کی اینکر پرسن منیزے جہانگیر کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سید اکبر آغا نے کہا کہ طالبان کی اسلامی شدت پسندی پر بات نہیں ہوسکتی۔ انھوں نے ترجمان افغان حکومت کے طالبان کے افغان پاسپورٹ پر پیرس کا سفر کرنے کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے وہی پاسپورٹ استعمال کیا جو وہ 2001ء سے قبل اپنی حکومت کے دور میں استعمال کرتے تھے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ طالبان پاکستانی پاسپورٹ استعمال کرنے سے ہچکچا رہے تھے کیونکہ اس سے طالبان کے پاکستان حکومت کے زیر اثر ہونے کے تاثر کو مزید تقریت ملتی۔ اکبر آغا نے کہا کہ طالبان صرف امریکا سے مذاکرات کریں گے، ہم نے کبھی بھی پاکستان یا افغانستان کو مذاکرات کیلیے نہیں بلایا، طالبان ایک حقیقت ہیں اور انھیں پاکستان کے ساتھ میز پر بیٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں، ہم صرف امریکا سے امن مذاکرات کریں گے اور افغان حکومت کو بعد کے مرحلے پر اعتماد میں لیا جائیگا۔ انھوں نے کہا کہ امریکا اعتماد بحال کرنے کیلیے گوانتانامو سے قیدیوں کو رہا کرے اور گارنٹی دے کہ ان کیخلاف مقدمات نہیں چلائیں جائیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ طالبان قیدیوںکو رہا کرے اور جہاد کرنیوالوں کو گرفتار کرنا اور انھیں پیسوں کیلیے امریکا کے حوالے کرنا اسلام آباد کا غیر اسلامی کام تھا۔ انھوں نے پاکستان پر طالبان کو دھوکا دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو غیر مشروط طور پر تمام طالبان قیدی رہا کردینے چاہییں اور افغانستان کے مسائل حل کرنے کیلیے مخلصانہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ انھوں نے تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں پر تنقید سے احتراز کیا اور کہا کہ پاکستانی طالبان افغان طالبان کی حمایت میں اپنی حکومت کیخلاف حملے کرتے ہیں مگر انھوں نے عام شہریوںپر حملوں کی مذمت کی۔
انھوں نے کہا کہ افغان طالبان کو اس بات کا غصہ ہے کہ پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان کے رہنمائوں کو گرفتار کرکے امریکی ایماء پر اپنی شرائط منانے کی کوشش کی تاہم افغان طالبان پاکستانی عوام کو حکومتی اقدامات کا ذمے دار نہیں سمجھتے۔ یاد رہے 9 سال قبل سید اکبر آغا کو اقوام متحدہ کے 3 کارکنوںکو اغواء کرنے پر 16 سال قید کی سزا ہوئی تھی مگر 2009 میں صدر کرزئی نے انکی سزا معاف کردی اور رہا کردیا، اب وہ کابل کے نواح میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ ملاعمر کے سابق چیف آف اسٹاف اور اب طالبان کے مذاکرات کار سید طیب آغا کے کزن ہیں۔تفصیلی انٹرویو ایکسپریس نیوز پر آج شام 4 بجے نشر کیا جائیگا۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…