’نیم روایتی جنگ‘ کے نام سے شائع کیے گئے اس باب میں ماضی کے برعکس اندرونی خطرات کو ملکی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ بعض حلقے اس اضافے کو پاکستانی فوج کے نظریے میں تبدیلی قرار دے رہے ہیں لیکن فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کسی نظریے میں تبدیلی نہیں بلکہ حالات کے پیش نظر آپریشنل ترجیحات میں ’توسیع‘ ہے۔
گرین بک میں اس ’نیم روایتی جنگ‘ کے باب کو تحریری شکل میں لانے سے قبل ایک پس پردہ بریفنگ بھی دی گئی تھی۔ جس میں اس امر کا اظہار کیا گیا تھا کہ اب پاکستان کو خطرہ مشرقی سرحد پر روایتی دشمن بھارت کے ساتھ ساتھ مغربی سرحد پر سرگرم طالبان اور القاعدہ کے شدت پسندوں کے علاوہ دیگر بین الاقوامی قوتوں سے بھی ہے۔
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے مغربی سرحد پر تعینات فوجیوں کی تعداد بھی بڑھائی گئی جو کبھی نہ ہونے کے برابر ہوا کرتی تھی۔
داریں اثنا پاکستان کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے ملک کی تینوں مسلح افواج سے کہا ہے کہ وہ ملکی سلامتی کو لاحق اصل خطرات کا ادراک کرتے ہوئے اپنے نظریات (ڈاکٹرین) کو از سرِ نو مرتب کریں۔
جمعہ کو اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی سلامتی کو اصل خطرہ ان غیر ریاستی عناصر سے ہے جو پاکستانی ریاست اور اس کے اداروں اور علامتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دنیا ایسی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے جہاں سکیورٹی اور سالمیت کے روایتی نظریات میں مسلسل تبدیلی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کو سیاسی ملکیت دی ہے اور سوات میں فوجی آپریشن سیاسی حکمتِ عملی اور جدید جنگ کے ملاپ کی بہترین مثال ہے۔
ادھر اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی سربراہی میں کور کمانڈرز کانفرنس راولپنڈی میں طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش سمیت افغانستان سے منسلک سرحدی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں ملکی اندرونی سلامتی کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔
اسلام آباد
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…