شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ کی نماز کے اجتماع (7 اگست 2026ء) میں ملک پر ’’بیس سالہ پابندیوں‘‘ اور ’’وسیع پیمانے پر مالی بدعنوانی‘‘ کو عوام کے معاشی اور معاشرتی مسائل کی اہم ترین وجوہات قرار دیتے ہوئے ’’پابندیوں کے خاتمے میں حکام کی کمزوری‘‘ پر تنقید کی، اور حکام سے مطالبہ کیا کہ ملک کے موجودہ حالات اور ’’عوام کی غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کے پیش نظر ’’مکالمے اور مذاکرات کو فروغ دینے‘‘ پر توجہ دیں۔
زاہدان کے خطیب جمعہ نے ایک مرتبہ پھر اغوا برائے تاوان کے مسئلے کے خلاف عوامی اور ہمہ گیر جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا اور معاشرے کے مختلف طبقات، بالخصوص علما، بزرگوں اور بااثر شخصیات سے مطالبہ کیا کہ معاشرے سے اغوا برائے تاوان کے خاتمے کے لیے ’’سنجیدہ اقدامات کریں‘‘۔
’’وسیع پیمانے پر بدعنوانیوں‘‘ اور ’’پابندیوں کے خاتمے میں حکام کی کمزوری‘‘ نے ملک اور قوم کو شدید نقصان پہنچایا
مولانا عبدالحمید نے کہا: بیس سال سے زیادہ عرصے سے ملک پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور اس صورتِ حال نے وطن، معیشت اور تمام عوام کو بہت بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے منتظمین اور حکام بھی اپنی انتظامی کمزوری کے باعث ان پابندیوں کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
انہوں نے مزید کہا: پابندیوں کے علاوہ ملک میں وسیع پیمانے پر مالی بدعنوانیاں اور بڑے پیمانے پر خوردبرد بھی موجود رہا ہے؛ یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ حکام اور حتیٰ کہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدیدار نے بھی کئی مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ملک میں بدعنوانی جڑ پکڑ چکی ہے۔
جب تک حکام تبدیلی اور اصلاح کے لیے سنجیدہ اقدام نہیں کریں گے، عوام اپنے مستقبل کو روشن نہیں دیکھ سکیں گے
زاہدان کے خطیبِ جمعہ نے مزید کہا: حکام کو ملک میں موجود بدعنوانیوں کے مقابلے کے لیے کوئی مؤثر تدبیر اختیار کرنی چاہیے۔ یہ درست ہے کہ ملک جنگی اور مشکل حالات سے دوچار ہے، لیکن اگر حکام ان بدعنوانیوں اور مسائل کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہ کریں اور تبدیلی اور اصلاح کے خواہاں نہ ہوں تو ملک کو کیسے تعمیر کیا جاسکتا ہے؟! عوام کو اپنے لیے ایک روشن مستقبل نظر آنا چاہیے اور حکام کو عملی طور پر یہ مستقبل عوام کو دکھانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: ذمہ دار شخص صرف وہ نہیں ہے جو جنگ کے بحران کو سنبھالنے کے بارے میں سوچے، بلکہ جنگ کے بحران کے انتظام کے ساتھ ساتھ اسے معاشرے میں غربت اور بھوک کے بحران کو بھی سنبھالنا چاہیے، کیونکہ غربت دنیا اور آخرت میں لوگوں کے لیے خطرناک نتائج کا باعث بنتی ہے۔ جو منتظم اور ذمہ دار ملک کے مختلف بحرانوں کو سنبھالنے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، وہ کمزور منتظم اور ذمہ دار ہے۔ حکام صرف اپنے اور اپنے نظام کے بارے میں نہ سوچیں، بلکہ ملک اور قوم کے حالات کو مدنظر رکھیں اور مکالمے اور مذاکرات کو فروغ دیں۔
اغوا کاروں کی حمایت عوام سے ’’خیانت‘‘ ہے / علما اور قبائلی بزرگ عوام کے مفادات، سلامتی اور آسودگی کے بارے میں سوچیں
انہوں نے اپنی گفتگو کے سلسلے میں معاشرے میں قبیح فعل ’’اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری‘‘ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ماضی میں جب معاشرے میں قتل کے واقعات بڑھ گئے تھے تو اس بات پر زور دیا گیا کہ قاتل کا تعاقب کرکے اسے گرفتار کیا جائے تاکہ نسلی اور خاندانی اختلافات اور قتل و قتال کا سلسلہ پیدا نہ ہو۔ لیکن افسوس کہ قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ عوام کو اس معاملے پر شک ہونے لگا کہ شاید کوئی منصوبہ اور سازش ہے جس کے تحت قبائل کے درمیان اختلاف اور لڑائی پیدا کرنا مقصود ہے۔
خطیب زاہدان نے مزید کہا: آخرکار ایک اجلاس میں، جو ہم نے قبائلی بزرگوں اور معتمدین کے ساتھ منعقد کیا، یہ فیصلہ کیا گیا کہ قاتل کو عدالتی حکام کے حوالے کیا جائے۔ بہت سے قبائل نے جب ایسا کیا تو کسی حد تک مزید قتل و قتال کا راستہ روکا گیا، لیکن جن قبائل نے قاتل کو حوالے نہیں کیا، ان کے خاندان اور قبیلے میں قتل کا سلسلہ جاری رہا۔
انہوں نے مزید کہا: اب معاشرے میں اغوا برائے تاوان کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے بھی وہی صورتِ حال درپیش ہے جو قتل کے واقعات کے بارے میں تھی۔ عوام بیدار ہیں، مسائل کو سمجھتے اور ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔ جب اغوا کاروں کا تعاقب اور انہیں گرفتار نہیں کیا جاتا تو عوام یہ احتمال دیتے ہیں کہ کوئی ایسا منصوبہ موجود ہے جس کے تحت اغوا کاروں کو نہ تو تلاش کیا جائے اور نہ گرفتار کیا جائے۔
مولانا عبدالحمید نے واضح کیا: اسی وجہ سے سب لوگ، جن میں علما اور قبائلی بزرگ شامل ہیں، امن و امان کے ذمہ دار حکام کو قصوروار ٹھہراتے اور ان پر الزام لگاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: یہ لوگ کہاں ہیں اور کچھ کرتے کیوں نہیں؟ ایک ذمہ دار شخص نے قبائلی بزرگوں کے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ مغویوں کو کہاں رکھا جاتا ہے اور ہم ایک ہفتے کے اندر اغوا کاروں کا صفایا کرسکتے ہیں۔ جب صورتِ حال ایسی ہے تو آپ یہ کام کیوں نہیں کرتے؟ آپ ذمہ دار ہیں اور آپ کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی اہلکار قتل ہوجائے تو تمام حکام اور سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے قاتل کو گرفتار کرنے کے لیے متحرک ہوجاتے ہیں، تو اغوا کاروں کو اسی سنجیدگی کے ساتھ گرفتار کیوں نہیں کرتے؟!
حضرت شیخ الاسلام نے مزید کہا: علما، قبائلی بزرگوں یا کسی بھی شخص کی جانب سے اغوا کاروں کی حمایت عوام سے خیانت ہے۔ اگر کوئی باپ اپنے اغوا کار بیٹے کی حمایت کرے تو وہ خائن ہے۔ جو شخص ڈاکہ زنی اور اغوا برائے تاوان کرتا ہے، خواہ وہ کسی کا بھی بیٹا ہو اور کسی بھی قوم یا خاندان سے تعلق رکھتا ہو، وہ اس خاندان اور قبیلے کا فرد نہیں بلکہ تمہارا دشمن ہے، جو تمہارے خاندان، قبیلے اور علاقے کو بدنام کرنا چاہتا ہے۔
جو لوگ بے گناہ افراد کو اغوا کرتے ہیں، ناحق خون بہاتے ہیں یا لوگوں کے مال ناجائز طور پر حاصل کرتے ہیں، وہ درحقیقت معاشرے کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرف لے جاتے ہیں، اور اگر اللہ کا عذاب آتا ہے تو سب اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ اگر ہم ظالم کو نہ روکیں اور مظلوم کے حق کا دفاع نہ کریں تو ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔
انہوں نے زور دیا: اس معاملے میں ہم سب کی ذمہ داری بہت بھاری ہے۔ آپ علما اور قبائلی بزرگوں کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ اجلاسوں میں شرکت کریں اور شکریہ ادا کریں۔ آپ حکومت سے وابستہ نہیں ہیں بلکہ عوام سے وابستہ ہیں، اس لیے آپ کو عوام کے نقطۂ نظر سے سوچنا چاہیے اور اپنے مفادات اور آسائش کے بجائے عوام کے مفادات، آسائش اور سلامتی کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
علما اور قبائلی بزرگوں کو عوام کی آسائش اور سلامتی کے بارے میں سوچنا چاہیے اور عوام کے مفادات کا دفاع کرنا چاہیے۔ جب حکام اور اہلکار اپنی ذمہ داری میں کوتاہی کرتے ہیں تو علما اور قبائلی بزرگوں کو علاقے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تدبیر اختیار کرنی چاہیے۔
کچھ لوگ صوبے کو تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے غیر محفوظ ظاہر کرنا چاہتے ہیں؛ عوام ہوشیار رہیں اور اغواکاروں کو علاقے کو غیر محفوظ بنانے کی اجازت نہ دیں
زاہدان کے خطیب جمعہ نے مزید کہا: اگر علاقے میں امن و امان نہ ہو تو وہ تاجر اور سرمایہ کار جو عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرسکتے ہیں، خود کو محفوظ محسوس نہیں کریں گے اور علاقے سے چلے جائیں گے۔ ممکن ہے بعض لوگ چاہتے ہوں کہ صوبے میں یہی صورتِ حال پیدا ہو، لیکن علما، قبائلی بزرگوں اور عوام کے مختلف طبقات کو ہوشیار اور بیدار رہنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: قبائلی بزرگوں اور معاشرے کی بااثر شخصیات سے میری درخواست ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور عوام کی رضامندی کے بارے میں سوچیں، اغوا برائے تاوان کے مسئلے کے حل کے لیے باہم بیٹھیں، ہر شخص اپنے علاقے کی حفاظت اور نگہداشت کرے اور اغواکاروں کو علاقے کو تباہ کرنے اور اقوام و قبائل اور ان کے آباؤ اجداد کو بدنام کرنے کا موقع نہ دیں۔
مولانا عبدالحمید نے اپنی گفتگو کے اختتام پر حاج عبدالغفور ایراننژاد کے انتقال کی طرف اشارہ کیا، جو چابہار کے انتخابی حلقے سے مجلسِ اسلامی کے مختلف ادوار میں رکن رہ چکے تھے، اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے رحمت اور مغفرت کی دعا کی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…