غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6 صحافی ساتھیوں کی اسرائیلی بمباری میں شہادت کی پہلی برسی منائی۔
الشفاء ہسپتال کے قریب منعقدہ ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران صحافیوں نے حقیقت کو دنیا تک پہنچانے اور فلسطینیوں کی تکالیف کو اجاگر کا عزم کیا۔
یہ صحافی اور ان کے ساتھ دانشوراور سماجی شخصیات فلسطینی جرنلسٹس بلاک کی دعوت پر شفاء ہسپتال کے پاس الجزیرہ کے خیمے کے سامنے جمع ہوئے۔
شرکاء نے ان 6 صحافیوں کی تصاویر اٹھا رکھا تھیں جو ایک سال قبل اسی مقام پر ایک اسرائیلی بمباری میں شہید ہو گئے تھے۔
شرکاء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا غزہ کی پٹی میں حقائق کو بیان کرنے اور فلسطینیوں کے دکھ درد کو دنیا کے سامنے لانے سے کبھی نہیں روک پائے گا۔
دس اگست سنہ 2025ء کو الجزیرہ چینل کے لیے کام کرنے والے 6 صحافی، جن میں رپورٹر انس الشریف اور محمد قریقع بھی شامل تھے، غزہ شہر میں شفاء اسپتال کے سامنے ان کے خیمے پر ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں شہید ہو گئے تھے۔
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
حکام ’’جنگ کے انتظام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کا بھی انتظام…
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…