ان ہنگاموں میں ایک طالب علم ہلاک جبکہ 30 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔
ہفتہ کے روز فسادات اس وقت بھڑک اٹھے جب بعض طلبہ نے ہاسٹل کی مسجد میں یوم عاشورا کے موقع پر ماتم کرنے سے مخالف فرقے کے طلبہ کو روک دیا تھا۔
وزارت داخلہ کے ایک ترجمان صدیق صدیقی کے مطابق طالب علموں کے ایک گروپ کی جانب سے دوسرے گروپ پر لاٹھیوں اور پتھروں سے حملوں کے نتیجے میں ایک طالب علم ہلاک اور 28 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔
پرتشدد واقعات کا آغاز یونیورسٹی کے ہاسٹل سے ہوا جہاں مختلف صوبوں کے طالبعلم رہتے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق ایک طالب علم کو تیسری منزل پر کھڑکی سے دھکا دیا گیا جس سے وہ نیچے گر کر ہلاک ہوگیا۔
افغان وزارت اعلیٰ تعلیم نے تشدد کو پھیلنے سے بچانے کیلئے تین اہم سرکاری یونیورسٹیز کو 10 دن کیلئے بند کر دیا ہے۔
اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یونیورسٹیز کو احتیاطی اقدام کے تحت بند کیا گیا ہے۔
جنگ نیوز+ایجنسیاں
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان