العربیہ ٹی وی کے نامہ نگار کے مطابق اتوار کو علی الصباح رفح سے ملحقہ الصفا کالونی میں مصری انٹلیجنس کے مقامی دفتر میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد فوج کی بھاری نفری کو جائے وقوعہ کی جانب جاتے دیکھا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دھماکے سے انٹلیجنس دفتر کا ایک حصہ زمیں بوس ہو گیا تاہم اس میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
مصری سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ دھماکے کی شدت سے آس پاس کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حکام نے دفتر کو فوری طور پر خالی کرا کر اس کی مکمل تلاشی لی ہے۔ واقعے کے فوری بعد بارڈر فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا تھا۔ ابھی تک دھماکے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکی ہیں اور نہ ہی کسی عسکری گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اگست میں رفح بارڈر سے ملحقہ سرحدی شہر العریش میں شدت پسندوں نے مصری فوجیوں پر حملہ کر کے سولہ اہلکار قتل کر دیئے تھے۔ اس کارروائی کے بعد مصری فوج نے جزیرہ نما سیناء میں چھپے عسکریت پسندوں کے خلاف طویل آپریشن کیا جس میں درجنوں شدت پسند ہلاک اور گرفتار کیے گئے تھے۔
العربیہ نیوز چینل
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان