غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق نائجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن کا کہنا ہے کہ صرف فوجی طاقت ملک سے تشدد کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔ تاہم انہوں نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ بوکو حرام واضح مطالبات سامنے رکھے۔
صدر نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ بوکو حرام کے نائجیریا سے باہر بھی جہادی تنظیموں سے روابط ہیںدوسری جانب اقوام متحدہ نے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ لیبیا کی خانہ جنگی کی وجہ سے وہاں پر موجود اسلحہ نائجیریا میں بوکو حرام اور خطے میں القاعدہ جیسی تنظیموں کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید