میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کی آمد کو سرکاری ٹی وی پر براہ راست دکھایا گیا ہے۔ طرابلس پہنچنے پر مصطفی عبدالجلیل کے حامیوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ ان کی آمد کے موقع پر طرابلس ہوائی اڈے پر بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ انہوں نے لیبیا کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔
مبصرین کے مطابق مصطفیٰ عبدالجلیل کی طرابلس آمد اوران کا پرجوش استقبال اس امرکی دلیل ہے کہ طرابلس پران کا قبضہ مضبوط ہے اور انہیں لیبیائی عوام کی بھرپور تائید اور حمایت حاصل ہے۔
درایں اثناء جنوبی افریقہ ملک گنی بساوٴ کے ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ ان کا ملک لیبیا کے کرنل معمر قذافی کو اپنے ہاں پناہ دینے پر تیار ہے۔
ریڈیو نے وزیراعظم کارلوس گومیس گونیور کا ایک بیان نشر کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے اگر کرنل قذافی نے ان کے ہاں پناہ کی خواہش ظاہر کی تو وہ اس کا دلی طور پرخیر مقدم کریں گے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید