میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کی آمد کو سرکاری ٹی وی پر براہ راست دکھایا گیا ہے۔ طرابلس پہنچنے پر مصطفی عبدالجلیل کے حامیوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ ان کی آمد کے موقع پر طرابلس ہوائی اڈے پر بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ انہوں نے لیبیا کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔
مبصرین کے مطابق مصطفیٰ عبدالجلیل کی طرابلس آمد اوران کا پرجوش استقبال اس امرکی دلیل ہے کہ طرابلس پران کا قبضہ مضبوط ہے اور انہیں لیبیائی عوام کی بھرپور تائید اور حمایت حاصل ہے۔
درایں اثناء جنوبی افریقہ ملک گنی بساوٴ کے ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ ان کا ملک لیبیا کے کرنل معمر قذافی کو اپنے ہاں پناہ دینے پر تیار ہے۔
ریڈیو نے وزیراعظم کارلوس گومیس گونیور کا ایک بیان نشر کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے اگر کرنل قذافی نے ان کے ہاں پناہ کی خواہش ظاہر کی تو وہ اس کا دلی طور پرخیر مقدم کریں گے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان