امریکی صدر باراک اوباما نے مصر میں اسرائیلی سفارت خانہ پر حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مصر سفارت خانہ کا تحفظ کرے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق قاہرہ میں سینکڑوں مشتعل افراد نے اسرائیلی سفارت خانہ پر دھاوا بولتے ہوئے عمارت کی چار دیواری کو توڑ ڈالا۔ اس موقع پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک بھی ہوگیا۔ مظاہرین سفارت خانہ کے باہر جمع ہوگئے اور حملہ کر دیا اور اسرائیلی جھنڈا پھاڑ دیا۔ چند گھنٹوں کے بعد اسرائیلی سفیر تیزہاک لیونین فوری طور پر ایک پرواز کے ذریعے قاہرہ سے وطن واپس روانہ ہوگئے۔
دریں اثناء اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باریک نے اپنے امریکی ہم منصب لیون پنیٹا سے ٹیلی فونک بات چیت کر کے خواہش ظاہر کی ہے کہ واشنگٹن مصر میں اسرائیلی سفارت خانے کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے معاونت فراہم کرے۔
دوسری جانب وائٹ ہائوس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما نے مصر میں اسرائیلی سفارت خانہ کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ بیان کے مطابق امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم سے ٹیلی فونک بات چیت کرتے ہوئے صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مصر عالمی قوانین کی پابندی کرتے ہوئے اسرائیلی سفارت خانہ کی سکیورٹی کو یقینی بنائے۔ بیان کے مطابق صدر اوباما اور اسرائیلی وزیراعظم نے حالات معمول پر آنے تک ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید