تاجک حکومت کے اس نئے قانو ن کے تحت 18 سا ل سے کم عمر کسی بھی نو جو ان کو مسجد ، چر چ یا کسی بھی مذہبی عبادت گا ہ جا نے کی اجاز ت نہیں ہو گی ۔ حکو مت کے اس فیصلے کو مسلم لیڈروں سمیت عیسا ئی جما عتوں کی جانب سے بھی سخت تنقید کا نشا نہ بنا یا جا رہا ہے ، تا ہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کامقصد نو جو انوں میں بڑھتی ہو ئی مذہبی انتہا پسندی کو رو کنا ہے ۔
واضح رہے کہ تاجکستا ن کا سرکا ر ی طور پر کو ئی مذہب نہیں ہے لیکن یہاں کی90فیصد آ با دی مسلما نوں پر مشتمل ہے ۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…