تاجک حکومت کے اس نئے قانو ن کے تحت 18 سا ل سے کم عمر کسی بھی نو جو ان کو مسجد ، چر چ یا کسی بھی مذہبی عبادت گا ہ جا نے کی اجاز ت نہیں ہو گی ۔ حکو مت کے اس فیصلے کو مسلم لیڈروں سمیت عیسا ئی جما عتوں کی جانب سے بھی سخت تنقید کا نشا نہ بنا یا جا رہا ہے ، تا ہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کامقصد نو جو انوں میں بڑھتی ہو ئی مذہبی انتہا پسندی کو رو کنا ہے ۔
واضح رہے کہ تاجکستا ن کا سرکا ر ی طور پر کو ئی مذہب نہیں ہے لیکن یہاں کی90فیصد آ با دی مسلما نوں پر مشتمل ہے ۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید