Categories: مشرق وسطی

صدر صالح کیخلاف ہزاروں افراد کا مظاہرہ، فورسز کی اندھادھند فائرنگ، 7 ہلاک 81 زخمی

صنعاء(ايجنسياں) یمن میں صدر علی عبداللہ صالح کیخلاف ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا،مظاہرین پر یمنی فورسز اور پولیس نے اندھادھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں7افراد ہلاک جبکہ81زخمی ہوگئے۔یاد رہے کہ یمن میں ایک بار پھر حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آگئی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں خلیج تعاون کونسل کے وزراء خارجہ اور یمن کے اپوزیشن رہنماؤں کا ایک مشترکہ اجلاس ہوا جس میں صدر علی عبداللہ صالح کو اقتدار سے الگ کرنے کیلئے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔
گذشتہ رات ہونے والے اجلاس کی صدارت متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے کی جس میں قطر، سعودی عرب، کویت، بحرین اور عمان کے وزراء خارجہ بھی شامل تھے جبکہ یمن کے وفد کی قیادت سابق وزیر خارجہ سلیم سبنداوا کر رہے تھے اجلاس کے دوران 10 اپریل کو ہونے والے خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں یمن بارے کئے گئے فیصلوں پر اب تک عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ صدر علی عبداللہ صالح کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے شروع کی گئی تحریک بارے اب تک لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اس کو جلد از جلد کامیاب بنانے کیلئے باہمی رابطوں کو جاری رکھا جائے گا۔
modiryat urdu

Recent Posts

تین سنی بلوچ علما کو راسک کے انٹیلی جنس دفتر میں طلب کیا گیا

سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…

1 week ago

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت

زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…

1 week ago

حکام ’’جنگ کے انتظام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کا بھی انتظام کریں اور ’’مکالمے اور مذاکرات‘‘ کو فروغ دیں

حکام ’’جنگ کے انتظام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کا بھی انتظام…

2 weeks ago