Categories: پاکستان

’وزیر قبائل طالبان سے نہیں لڑیں گے‘

پشاور(رپورٹ: بی بی سی) پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مُلا نذیر گروپ کے طالبان نے کہا ہے کہ وزیر قبائل حکومت کے دباؤ میں آ کر طالبان کے کسی گروپ سے لڑنے کے لیے تیار نہیں ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کے طالبان جنگجوؤں وانا میں داخل ہوئے ہیں۔

مُلا نذیر گروپ کے مقامی طالبان کے ایک کمانڈر ملنگ خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات غلط ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے بیت اللہ گروپ کے کمانڈر یا جنگجو شمالی وزیرستان سے بھاگ کر جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں داخل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قبائل حکومت کے دباؤ میں آکر کسی بھی صورت میں بیت اللہ گروپ کے خلاف لڑنے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وانا میں مُلا نذیر گروپ کے مقامی طالبان کی وجہ سے امن و امان قائم ہے اور وانا کے امن کو کسی بھی صورت خراب کرنے نہیں دیں گے۔ ملنگ کے مطابق وانا میں کوئی غیر مُلکی موجود نہیں ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر قبائل کے سرکردہ عمائدین نے جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ شہاب علی سے ایک ملاقات کے دوران شمالی وزیرستان سے بھاگ کر جنوبی وزیرستان میں پناہ لینے والے بیت اللہ گروپ کے کمانڈروں اور جنگجوؤں کو ایک ہفتہ کے اندر علاقے سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔
جرگہ ارکان کا کہنا تھا کہ وہ شمالی وزیرستان سے بھاگ کر صدر مقام وانا اور آس پاس کے علاقوں میں پناہ لینے والے تحریک طالبان کے کمانڈروں سے مذاکرات جاری ہیں اور انھیں ایک ہفتہ کے اندر اندر علاقے سے نکل جانے کی مہلت دی گئی ہے۔
جرگے میں بتایا گیا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں قبائل خود شدت پسندوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے کارروائی کرینگے۔ جرگہ میں احمد وزیر قبائل کے تمام سرکردہ عمائدین اور مشران نے شرکت کی تھی۔
پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کہا جاتا رہا ہے کہ اکتوبر میں جنوبی وزیرستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کے نتیجے میں محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر طالبان عسکریت پسند علاقہ چھوڑ کر شمالی وزیرستان، اورکزئی، کرم اور دیگر قبائلی ایجنسیوں کی جانب فرار ہوگئے تھے۔ اطلاعات ہیں کہ یہ جنگجو اب شمالی وزیرستان میں ممکنہ آپریشن یا کسی اور دباؤ کے تحت علاقہ چھوڑ کر ایک بار پھر صدر مقام وانا اور آس پاس کے علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ بعض سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں بعض اہم جنگجو کمانڈر بھی شامل ہیں تاہم مقامی طور پر ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago