اپنے بیان کے پہلے حصے میں بانی انقلاب آیت اللہ خمینی کی برسی کی مناسبت سے بات کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا جس تحریک کی قیادت آیت اللہ خمینی نے کی اس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک عوامی تحریک تھی۔ اس انقلاب کی کامیابی وفتح عوام کے تعاون اور قربانیوں سے ممکن ہوئی۔ اس کی بقا بھی عوام کی مدد سے ممکن ہے۔ اس لیے ایران کے سارے عوام اور جماعتوں کی بات سننی چاہیے۔
آیت اللہ خمینی کی قیادت میں برپا ہونے والے انقلاب کے ایک اہم نعرہ شیعہ سنی برادر وبرابر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا آیت اللہ خمینی کی ایک بات مجھے یاد ہے کہ کہاکرتے تھے “شیعہ وسنی بھائی بھائی ہیں اور ان کے حقوق برابر ہیں۔” جب مولانا عبدالعزیز(بانی دارالعلوم زاہدان) نے ان سے تہران میں مسجد تعمیر کرنے اجازت طلب کی تو انہوں نے اس کی اجازت دی لیکن انتہاپسند اور تنگ نظر عناصر کی مداخلت کی وجہ سے آج تک اہل سنت والجماعت دارالحکومت تہران میں مسجد سے محروم ہے۔
سنی برادری اور حکام کے درمیاں موجود خلیج کاحوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بات آگے بڑھائی: افسوس کی بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے چند سنی ممبرز کے علاوہ اعلی حکام سے رابطے کیلیے ہمارا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ اس لیے اعلی حکام کو اپنے مسائل سے آگاہ کرنے کیلیے ہمیں مشکلات درپیش ہیں۔
انہوں نے مزید کہا صدر کے مشیر برائے اہل سنت بھی یہ خلیج پرکرنے سے قاصرہے۔ اکثر ان سے مشورہ بھی نہیں کیاجاتاہے۔ بلکہ وہ طویل عرصے تک صدر سے ملاقات کی خواہش بھی پوری نہیں کرسکتے۔ ایک مرتبہ کسی کام کیلیے میں ان سے ملنے تہران گیا تو انہوں نے حیرت انگیز انکشاف کیا کہ ایک سال ہوچکاہے کہ صدراحمدی نژاد سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی ہے! ایک صدر اور اس کے مشیر کے تعلق کا جب یہ حال ہو تو ہم کیسے امید رکھیں کہ وہ ہمارے مسائل حل کرسکیں گے؟
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا اہل سنت اس ملک کے باشندے ہیں اور اس کا جزو ہیں۔ دینی و ملی حقوق کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہتے۔ امید ہے کہ بانی انقلاب کی اس بات کو جامہ عمل پہنایاجائے کہ شیعہ و سنی کے حقوق برابر ہیں اور سنی مسلمان ایران میں اپنے کامل اور قانونی حقوق حاصل کریں۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام