Categories: فقہ و احکام

مختلف ملکوں کی کرنسی آپس میں خریدو فروخت

مختلف ملکوں کی کرنسی آپس میں خریدو فروخت ہوتی ہے اس کو فاریکس ٹریڈنگ کہتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟

مختلف ملکوں کی کرنسیوں کا آپس میں تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے بہ شرطیکہ مجلسِ عقد میں احد العوضین پر قبضہ کرلیا جائے، اگر مجلس عقد میں عوضین میں سے کسی ایک پر بھی قبضہ نہ کیا اور متعاقدین جدا ہوگئے تو یہ سود ہوجائے گا، اور وہ حرام ہے.
قال شارح الصحیح لمسلم: وأما إذا وقع تبادل الفلوس بغیر جنسہا فیجوز التفاضل في قولہم جمیعا وتحرم النسیئة في قول مالک -رحمہ اللہ- لکون ذلک صرفا عندہ، ولا تحرم علی قیاس قول الحنفیة، لأنہ لا قدر فیہا ولا جنس، نعم یشترط قبض أحد البدلین في المجلس لئلا یکون افتراقًا عن دین بدین ․ (تکملة فتح الملہم: ۱/۵۸۹، اشرفیہ)

واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

modiryat urdu

Recent Posts

رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کی علامت» ہے

رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…

38 minutes ago

تین سنی بلوچ علما کو راسک کے انٹیلی جنس دفتر میں طلب کیا گیا

سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…

2 weeks ago

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت

زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…

2 weeks ago