الجواب باسم ملھم الصواب
اگر وارث، مرحوم شخص کی طرف سے خود حج کرے یا کسی دوسرے شخص کو میت کی طرف حج پر روانہ کرے ان شاء اللہ قبول ہوگا۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اداء کرنے کو مطلقاً قرض ادا کرنے سے تشبیہ دی ہے۔ قرضہ اور دین کی ادائیگی مدیون اور مقروض کے حکم بغیر بھی ہوجائے گی اگر دائن اور مالک قبول کرے۔ جس طرح اس مسئلہ میں مدیون سے قرضہ اتر جاتاہے اسی طرح حج میں میت کی وصیت کے بغیر حج اداء ہوجائے گا۔
محمودالفتاوی270/2
دارالافتاء دارالعلوم زاہدان
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان