شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 19 دسمبر 2025ء کو زاہدان میں جمعہ کے خطبے کے دوران،صدر پزشکیان کی جانب سے اقتصادی مسائل حل کرنے میں ناکامی کے اعتراف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے حکومتی نظام میں حکومت پالیسیوں کی متولی نہیں بلکہ صرف ان پر عمل درآمد کرنے والی ہے۔ جب تک سوچ اور پالیسیوں میں تبدیلی نہیں آتی، اقتصادی اصلاحات اور موجودہ معاشی بحران سے نکلنا ناممکن ہے۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے صدرِ مملکت کے حالیہ بیان کا ذکر کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کی معیشت کے لیے کچھ کرنا ممکن نہیں اور اگر کسی کے پاس کوئی تجویز ہے تو وہ پیش کرے۔ مولانا عبدالحمید نے کہا کہ حکومت کا یہ کہنا درست ہے کہ وہ مسائل حل کرنے کی طاقت نہیں رکھتی، کیونکہ ملک کے نظام میں پالیسیوں کا اختیار حکومت کے پاس نہیں ہے۔ حکومت پالیسی بناتی نہیں بلکہ انہیں نافذ کرتی ہے، اور سیاسی فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ملک کو اقتصادی بندشوں سے نکالنے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ داخلی اور خارجی پالیسیوں میں تبدیلی لائی جائے اور سوچ بدلی جائے۔ پالیسیوں میں تبدیلی کے بغیر اقتصادی اصلاح ممکن نہیں۔ اگر خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے ذریعے پابندیاں ختم کر دی جائیں تو خود بخود اقتصادی مسائل حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اس وقت تمام طبقات زندگی بند گلی کا شکار ہیں۔ ملکی کرنسی کی قدر روز بروز گر رہی ہے اور عالمی سطح پر اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔ سرکاری ملازمین، فوجیوں، اساتذہ، پنشنرز اور دیگر تمام طبقوں کی تنخواہیں اپنی قدر کھو چکی ہیں اور سبھی طبقات شدید مشکلات میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عربی مقولہ ہے کہ ایک بہت بڑا معاملہ پیش آ گیا ہے جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسی عظیم شخصیت ہی سنبھال سکتی ہے۔ اقتصادی مسائل کے حل کے لیے بلند حوصلے اور مضبوط ارادے کی ضرورت ہے۔ ہم عام شہری ہیں اور صرف مشورہ دے سکتے ہیں، ہمارے ہاتھ میں اختیار نہیں۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے طاقت دی ہے اور جو فیصلہ سازی کے مراکز میں بیٹھے ہیں، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی آواز سنیں اور تبدیلی اور عوامی مسائل کے حل کے بارے میں سوچیں۔
مولانا عبدالحمید نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: امتیازی سلوک کا خاتمہ عوام کا ایک عمومی مطالبہ ہے۔ عوام ہمیشہ سے چاہتے آئے ہیں کہ تمام قومیتوں اور مذاہب کے درمیان برابری اور مساوات قائم ہو۔
انہوں نے کہا: اگرچہ ایران کے عوام مختلف عقائد اور رجحانات رکھتے ہیں، لیکن ملکی نظم و نسق اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ پورے ملک میں بالخصوص ان علاقوں میں جہاں نسلی اور مذہبی تنوع پایا جاتا ہے، توازن قائم کیا جائے اور تمام قومیتوں اور مذاہب کے اہل افراد کو ذمہ داریاں دی جائیں۔ یہی طریقہ قومی وحدت، اخوت اور باہمی ہم آہنگی کے تحفظ کے لیے بہتر ہے اور ملک کے حق میں ہے۔
خطیب زاہدان نے قابل اور باصلاحیت مقامی منتظمین کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چودھویں حکومت کے دور میں بعض صوبوں خصوصاً سیستان و بلوچستان میں مقامی حکام اور منتظمین کو ذمہ داریاں دینے کے لیے مثبت اقدامات کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ابھی مکمل توازن قائم نہیں ہوا اور امتیاز باقی ہے، لیکن عوام کی توقع ہے کہ مرکز کی جانب سے باصلاحیت مقامی منتظمین کی حمایت کی جائے اور انہیں جلدی جلدی تبدیل نہ کیا جائے۔
مولانا عبدالحمید نے چابہار فری زون کے مینیجنگ ڈائریکٹر محمد سعید اربابی کو ایک باصلاحیت مقامی افسر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک قابل فرد ہیں اور اکثر عوام ان سے مطمئن ہیں۔ ان کے دور میں چابہار فری زون میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور اب صوبے کے عوام محسوس کرتے ہیں کہ فری زون واقعی ان کے علاقے میں فعال ہے۔ اسی طرح سیستان فری زون نے بھی اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے، جو علاقے کے لوگوں کے لیے ایک موقع ہے۔
انہوں نے چابہار فری زون کے موجودہ سربراہ کی ممکنہ تبدیلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ ایک مقامی اور باصلاحیت منتظم کو ہٹا کر کسی غیر مقامی فرد کو لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ ایسا اقدام صوبے کے عوام میں شدید غم و غصےکا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہا: موجودہ مینیجنگ ڈائریکٹر کو صرف نو ماہ ہوئے ہیں، انہیں کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ اگر کوئی کمی ہے تو اس کی اصلاح کی جائے۔ اگر مستقبل میں تبدیلی ضروری ہو تو کسی ایسے ہی باصلاحیت مقامی منتظم کو ان کی جگہ لایا جائے جو ان کے ہم پلہ یا ن سے بہتر ہو۔ کوئی انسان کمزوری سے خالی نہیں ہوتا، لیکن اگر ایک ایسے مقامی اور باصلاحیت منتظم کو روکا جائے جس کا وجود صوبے اور ملک کے لیے فائدہ مند ہے اور جو عوام کے مفاد میں کام کر رہا ہے، تو اس سے دیگر افسران کا حوصلہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔
آخر میں مولانا عبدالحمید نے کہا کہ عوام ایک ایسے مقامی ذمہ دار کو چاہتے ہیں جو باصلاحیت، بااختیار اور نئی سوچ رکھنے والا ہو، اور حکومت کو چاہیے کہ ایسے افراد کی حمایت کرے، انہیں کام کرنے کی آزادی دے اور جلد بازی میں انہیں تبدیل نہ کرے۔ سرحدی علاقوں میں زیادہ تدبر اور عوامی رویے کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت اس معاملے پر توجہ دے گی اور کسی غیر مقامی فرد کو لانے کے بجائے موجودہ مقامی منتظم کی حمایت کرے گی، کیونکہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام