جارحیت پسند مودی سرکار نے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق جنونی ہندوؤں کے ہاتھوں مسجد کو نذر آتش کرنے کے واقعے کی خبر دینے والی دو خاتون صحافیوں کو ہی نظر بند کردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست تری پورہ میں فسادات کی کوریج کرنے والی دو خاتون صحافیوں نے جنونی ہندوؤں کے ایک گھر میں تعمیر کی گئی مسجد کو نذر آتش کرنےاور مسلمانوں کی املاک جلانے کی ویڈیوز ٹوئٹر پر شیئر کی تھیں۔
خواتین صحافیوں سمردھی ساکونیا اور سوارنا جھا نے یہ خبر بھی دی تھی کہ مسجد کو نذر آتش کرنے کے دوران قرآن پاک کے اوراق بھی جل گئے تھے۔ ان ویڈیوز اور تصاویر کے منظر عام پر آنے سے بھارت کا نام نہاد سیکولر اسٹیٹ کا دعویٰ بے نقاب ہوگیا۔
مودی سرکار نے اس دل خراش واقعے پر ذمہ داروں کو سزا دینے کے بجائے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خبر دینے والی خواتین صحافیوں پر ہی جعلی ویڈیوز کے ذریعے مذہبی منافرت پھیلانے اور لوگوں کے جذبات اکسانے کے مقدمات درج کرادیئے۔
مقدمات درج ہونے کے بعد ریاست آسام کی پولیس نے نظام گر کے ایک ہوٹل میں مقیم دونوں صحافیوں کو نظر بند کردیا جب کہ تری پورہ پولیس کی ایک ٹیم انھیں لینے کے لیے روانہ ہوگئی ہے۔
ریاست تری پورہ پولیس نے مسلم کش فسادات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد کو نذر آتش کرنے کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے، صحافیوں نے جعلی ویڈیوز اپ لوڈ کی ہیں اس لیے ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…