چابہار (سنی آن لائن) مارچ دوہزار پندرہ سے اگست دوہزار بیس تک صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال تین ایرانی بلوچ ماہی گیر رہا ہوکر جمعہ اکیس اگست کو گھر پہنچ گئے۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، ’جمال الدین دہواری، ابراہیم بلوچ نیا اور عبداللہ نوحانی‘ ان اکیس ماہی گیروں میں شامل تھے جو سراج نامی جہاز پر سوار تھے اور ملک واپس آتے ہوئے راستے میں صومالی قزاقوں کے نرغے میں آچکے تھے۔
ان تین ماہی گیروں کی رہائی میں بلوچ عمائدین اور صومالیہ کے مقامی لوگوں نے ایرانی وزارت خارجہ اور بعض سکیورٹی اداروں کے تعاون سے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
اس سے پہلے ایک ماہی گیر اقوام متحدہ کی ثالثی سے رہا ہوچکا ہے، چار ماہی گیروں کو مقامی افراد نے رہا کرایا جبکہ چار کو صومالی پولیس نے بچایا۔ ان کے علاوہ آٹھ بلوچ ماہی گیر بھوک اور تشدد کی وجہ سے قزاقوں کی قید میں جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں عبداللہ نوحانی کا بھائی اور کزن شامل ہیں۔
پہلی مرتبہ دسمبر دوہزار سولہ کو یرغمال ماہی گیروں کی ویڈیو شائع ہوئی جنہوں نے ایرانی حکومت سمیت عالمی برادری سے مدد کی اپیل کی۔ چار سال بعد ان کے گھروالوں کی کوششیں رنگ لائیں اور انہیں رہائی مل گئی۔ جنوری دوہزار سولہ سے صومالیہ نے ایران سے اپنے سیاسی تعلقات بند کرکے ایرانی سفارتکاروں کو موگادیشو سے نکال دیا تھا جس کی وجہ ایسے قیدیوں اور یرغمالیوں کی رہائی میں کافی وقت لگا۔
کہا جاتاہے اب بھی بعض بلوچ ماہی گیر صومالیہ سے لاپتہ ہیں جن کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاعات دستیاب نہیں ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…