چابہار (سنی آن لائن) جمعرات سات مئی کو ایرانی بلوچستان کے ساحلی شہر کی کچی آبادی ’جنگلوک‘ آگ لگنے سے جھلس کر راکھ بن گئی۔اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
چابہار سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، جنگلوگ میں تیس خاندان آباد ہیں جو جھونپڑیوں اور جگھیوں میں رہتے ہیں۔ انہیں پکا مکان بنانے کی اجازت نہیں ہے۔
آگ لگنے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہوئی ہے، لیکن بعض مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کے کرنٹ آگ لگنے کی وجہ ہوسکتی ہے۔فائربریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ دو گھنٹوں میں وہ آگ پر قابونے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔
مقامی باشندوں نے سرکاری خبررساں ادارہ ایرنا کو بتایاہے کہ علاقے کی زمینوں پر مختلف محکموں کی عمارتیں قائم ہوچکی ہیں، لیکن انہیں گھر بنانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔
اس آبادی کے اکثر باشندے عام مزدور اور محنت کش ہیں جن کا تعلق بلوچ برادری سے ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…