مولانا محمدحسین گورگیج نے پولیس کے ہاتھوں بعض بلوچ نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل اور بلوچستان کے بلوچ قبائل کے درمیان اسلحہ بانٹنے پر سخت تنقید کی۔
سنی آن لائن نے مولانا گورگیج کی ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی، انہوں نے بلاوجہ اسلحہ کی تقسیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا: یہ ایک غلط پالیسی تھی کہ قبائل کے درمیان اسلحہ بانٹا گیا جو بعد میں معمولی چپقلشوں پر ان کا استعمال ہوا اور لوگوں کو قتل کیا گیا۔ عوام میں اسلحہ بانٹنے سے دفاع اور امن کے مقاصد پورے نہیں ہوسکتے۔
جامعہ فاروقیہ گالیکش کے صدر و مہتمم نے مزید کہا: کچھ لوگوں کا ارادہ ہے کہ صوبہ گلستان کے بلوچ قبائل کو بھی مسلح کریں۔ ہم ہرگز اس کو پسند نہیں کرتے اور اسے نہیں مانتے ہیں۔ جو عناصر ایسے پلان رکھتے ہیں، وہ ملک و ملت سے خیانت کرتے ہیں۔ متعلقہ حکام کو چاہیے ایسے افراد کو قابو کریں۔
بلوچ عمائدین کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: عمائدین کو میری نصیحت ہے کہ نوجوانوں کو بندوق تھمادینے کے بجائے انہیں اعلی تعلیم دلوائیں اور یونیورسٹیوں کی راہ انہیں دکھائیں۔ یہ بلوچ قوم کے لیے شرم کی بات ہوگی کہ دو قبائل آپس میں لڑپڑیں۔
آزادشہر کے خطیب نے دن دیہاڑے فائرنگ اور بلوچ نوجوانوں کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: روز بلوچستان میں نوجوان معاشی مسائل سے تنگ آکر چند لیٹر ڈیزل یا چاول لاتے ہیں، لیکن پولیس اہلکار ان پر فائر کھول کر انہیں قتل کرتے ہیں۔ جب تک عوام کے حقوق پامال ہوں گے، امن اور ترقی کا امکان نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا: پولیس کو چاہیے عوام کی خدمت کرے، ان کے مدمقابل نہ آئے۔ جب کوئی شکوہ کرتاہے، اسے انتہاپسند قرار دے کر منحرف و باغی سمجھا جاتاہے۔ عوام کا حق انہیں دلوائیں تاکہ کوئی صدائے احتجاج بلند نہ ہو۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…