تہران سے منتخب ایک رکن پارلیمان نے کہا ہے ملکی آئین میں اصلاح اور تبدیلی لانا ضروری ہے اور ایسا کرنا کوئی ’کفر‘ نہیں ہے۔
سنی آن لائن نے برنا نیوز ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ دی، محمدجواد فتحی نے کہاہے ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر آئین کی اصلاح ضروری ہے۔
انہوں نے کہا: آئین کو مقدس کتاب نہیں جس پر تنقید کرنا منع ہو،اس کی کچھ شقوں میں تبدیلی لانا وقت کا تقاضا ہے۔
محمدجواد فتحی نے کہاہے کچھ لوگ سمجھتے ہیں آئین کوئی مقدس کتاب ہے جس میں کوئی اصلاح لانا گناہ ہے۔ حالانکہ ترقی یافتہ ملکوں نے اپنے قوانین میں کئی مرتبہ ضروری تبدیلیاں لائی ہے۔
یاد رہے آئین کی رو سے شیعہ مسلک ہی کے پیروکار حضرات ملک کے صدر اور مرشد اعلی بن سکتے ہیں۔ دیگر عہدوں کے لیے ایسی کوئی آئینی پابندی نہیں ہے، لیکن انقلاب سے اب تک سنی برادری کو وزارت اور صوبائی گورنری کے عہدوں سے محروم رکھا گیا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…