تہران سے منتخب ایک رکن پارلیمان نے کہا ہے ملکی آئین میں اصلاح اور تبدیلی لانا ضروری ہے اور ایسا کرنا کوئی ’کفر‘ نہیں ہے۔
سنی آن لائن نے برنا نیوز ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ دی، محمدجواد فتحی نے کہاہے ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر آئین کی اصلاح ضروری ہے۔
انہوں نے کہا: آئین کو مقدس کتاب نہیں جس پر تنقید کرنا منع ہو،اس کی کچھ شقوں میں تبدیلی لانا وقت کا تقاضا ہے۔
محمدجواد فتحی نے کہاہے کچھ لوگ سمجھتے ہیں آئین کوئی مقدس کتاب ہے جس میں کوئی اصلاح لانا گناہ ہے۔ حالانکہ ترقی یافتہ ملکوں نے اپنے قوانین میں کئی مرتبہ ضروری تبدیلیاں لائی ہے۔
یاد رہے آئین کی رو سے شیعہ مسلک ہی کے پیروکار حضرات ملک کے صدر اور مرشد اعلی بن سکتے ہیں۔ دیگر عہدوں کے لیے ایسی کوئی آئینی پابندی نہیں ہے، لیکن انقلاب سے اب تک سنی برادری کو وزارت اور صوبائی گورنری کے عہدوں سے محروم رکھا گیا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…