برطانوی عدالت نے نمازیوں پر گاڑی چڑھانے کے جرم میں مجرم ڈیرن اوسبورن کو عمر قید کی سزا سنا دی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق والوچ کراؤن کورٹ نے گزشتہ سال شمالی لندن کی ایک مسجد کے باہر نمازیوں پر گاڑی چڑھانے کے مقدمے میں مجرم کو قاتلانہ حملے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے فرد جرم عائد کی تھی جس پر آج سزا سنادی گئی۔
عدالت نے قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مجرم کو 43 سال قید کی سزا سنائی ہے، 38 سالہ مجرم ڈیرن اوسبورن کو اب چار دہائیوں سے زائد کا عرصہ سلاخوں کے پیچھے گزارنا پڑے گا۔
اسلام مخالفت نظریات رکھنے والے مجرم نے 2017ء میں شمالی لندن کے علاقے میں فنزبری پارک میں واقع مسجد کے باہر نمازیوں پر گاڑی چڑھادی تھی جس کے نتیجے میں ایک 51 سالہ مسلمان شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
حملے میں شہید ہونے والے شخص اکرم علی کی بیٹی روزینہ نے دوران سماعت سسکیوں اور آہوں کے ساتھ کہا کہ وہ دلخراش واقعے میں والد کی وفات پر جس کرب اور درد سے گزری ہیں وہ لفظوں میں بیان نہیں کرسکتیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…