امریکی حکومت کے سرکاری نگراں ادارے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغان ری کنسٹرکشن نے ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ امریکا افغانستان میں کنٹرول کھو رہا ہے۔
امریکی حکومت کے سرکاری نگراں ادارے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغان ری کنسٹرکشن (سگار) نے افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی جو امریکی کانگریس، محکمہ دفاع اور محکمہ خارجہ کو بھیجی گئی۔ رپورٹ میں اعتراف کیا کہ امریکا افغانستان میں کنٹرول کھو رہا ہے اور امریکا کے زیر کنٹرول اضلاع کی تعداد کم ہورہی ہے، اس کے مقابل ان علاقوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن پر طالبان کا قبضہ یا اثر و رسوخ ہے۔
سگار کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں بم حملوں کے اعداد و شمار 2012 کی نسبت 3 گنا زیادہ ہیں اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جانی نقصان میں بھی اضافہ ہوا جب کہ سپا ہیوں کو ہلاک کیا جانا تقریباً روز مرہ کا معمول ہے، گزشتہ 11 مہینوں میں 11 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، اکتوبر میں افغانستان میں فورسز نے دشمنوں کے ٹھکانوں پر 653 بم گرائے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ منشیات پر کنٹرول کے لیے 8 ارب 70 کروڑ ڈالر دی گئی لیکن اس کے باوجود گزشتہ سال افغانستان میں افیون کی پیداوار میں 87 فی صد اضافہ ہوا اور پوست کے زیر کاشت رقبے میں بھی 63 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا جب کہ افغان صوبے فرح میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ طالبان نے کئی سرکاری چوکیاں تباہ کر دی ہیں۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید