بھارت میں پولیس نےانتخابی جلسے میں شریک ایک مسلمان خاتون کا برقعہ زبردستی اتروادیا۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت کا اقلیتوں کی نام نہاد مذہبی آزادی کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا۔ریاست اتر پردیش میں انتخابی مہم کے دوران وزیراعلیٰ یوگی آدتیاناتھ کی موجودگی میں پنڈال کی سیکورٹی پر مامور خاتون پولیس افسر نے برقعے میں ملبوس مسلمان خاتون کو سرِ عام بے حجاب ہونے پر مجبور کردیا۔پولیس افسر کے حکم پر خاتون نے پہلے حجاب ہٹایا تاہم افسر کو اطمینان نہ ہوا تو سیکورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر بھرے مجمے میں پورا برقعہ اتروادیا۔
مذکورہ خاتون نے میڈیا کو بتایا کہ اس کا نام سائرہ ہے اور وہ بلدیات کے ضمنی الیکشن کے سلسلے میں انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیں جب کہ وہ اپنے آبائی گاؤں سے برقعہ پہن کریہاں تک آئی اور اس اسلامی پردے پر کسی نے اسے نہیں روکا۔
دوسری جانب واقعہ کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…