برطانوی دارالحکومت میں مسلمان خاتون نے نقاب پہننے سے منع کرنے پر بیٹی کے اسکول کی انتظامیہ پر مقدمہ کردیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق راشدہ سروغ نے اپنی بیٹی کے ’’ہولینڈ پارک اسکول لندن‘‘ کی انتظامیہ کے خلاف امتیازی سلوک کا کیس دائر کردیا ہے۔ اسکول میں نئے طلبہ کے والدین کے اعزاز میں تقریب ہوئی جس میں باحجاب خاتون راشدہ نے بھی شرکت کی لیکن اسکول انتظامیہ نے انہیں نقاب اتارنے کا حکم دیا۔ انتظامیہ کے لوگ انہیں ایک کمرے میں لے گئے اور کہا کہ اسکول میں نقاب پہننے کی اجازت نہیں بصورت دیگر وہ واپس چلی جائیں۔
راشدہ نے کہا کہ انہیں اس حکم سے شدید صدمہ پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ نقاب پہننے پر لندن کی گلیوں میں لوگوں نے انہیں برا بھلا بھی کہا ہے اور گالیاں بھی دی ہیں لیکن اسکول میں پڑھے لکھے اور خود کو مہذب کہنے والے افراد کے رویے پر انہیں زیادہ افسوس ہوا جس کی وجہ سے انہوں نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…