جرمنی میں ایک جج نے شامی پناہ گزین خاتون کو سر پر اسکارف پہن کر کمرہ عدالت میں آنے سے روک دیا۔ عدالت میں خاتون کی طلاق کے حوالے سے مقدمہ دائر ہے۔
شامی خاتون کی وکیل نجات ابوکال نے ایک جرمن اخبار Tagesspiegel کو بتایا کہ ملک کے مشرقی شہر Luckenwalde میں عدالت کے جج نے ان کی مؤکلہ کو بھیجے گئے ایک تحریری خط میں کہا ہے کہ حجاب یا سر پر اسکارف جیسی مذہبی علامات کے ساتھ کمرہ عدالت میں داخلہ ممنوع ہے۔
عدالت کے جج نے دھمکی دی ہے کہ مذکورہ ہدایات کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں شامی خاتون کو سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
شامی خاتون کی وکیل نجات نے باور کرایا ہے کہ جج کا مطالبہ جرمنی کے آئین کے منافی ہے۔ انہوں نے اپنی مؤکلہ کے نام بھیجے گئے جج کے خط پر اعتراض بھی داخل کر دیا ہے۔
نجات کے مطابق عدالتوں میں مذہبی علامتوں پر پابندی عدالتی ملازمین پر لاگو ہوتی ہے جب کہ عام افراد اس پابندی سے خارج ہیں۔
شامی خاتون کی جانب سے اعتراض جمع کرانے کے بعد ڈسٹرکٹ کورٹ کی ڈائریکٹر نے 27 جولائی کو مقررہ سماعت کو ملتوی کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 2006 میں فیصلہ جاری کیا تھا کہ سماعت میں سر پر اسکارف پہن کر آنے کی خواہش مند خواتین کو کمرہ عدالت سے باہر نہیں بھیجا جا سکتا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…