سراوان (سنی آن لائن) ایرانی بلوچستان کے ممتاز عالم دین مولانا محمدانور ملازہی ٹریفک حادثے میں زخمی ہونے کے بعد سوموار (سترہ جولائی) کی شام کو زاہدان کے ایک مقامی اسپتال میں انتقال کرگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
سنی آن لائن ڈاٹ یو ایس کی رپورٹ کے مطابق، مولانا محمدانور ہفتہ پندرہ جولائی کو خاش سراوان مین روڈ پر کار الٹنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوئے تھے۔ مرحوم زاہدان کے ’خاتم الانبیا‘ اسپتال میں داخل تھے جہاں ان کی روح پرواز کرگئی۔ ان کی عمر 83 برس تھی۔
اس حادثے میں مولانا ملازہی کے داماد مولوی عبدالغفور بھی زخمی ہوچکے ہیں جو ابھی تک زیرعلاج ہیں۔

مولانا محمدانور کی پیدائش ایرانی بلوچستان کے ضلع سراوان کے ’کلہ گان‘ گاوں میں ہوئی ۔ آپ نے زیادہ تر دینی تعلیم پاکستان کے معروف دینی اداروں میں حاصل کی جن میں دارالعلوم ٹنڈوالہیار، قاسم العلوم ملتان اور دارالعلوم کراچی قابل ذکر ہیں۔ ان کے اساتذہ میں مولانا ظفراحمد عثمانی، مولانا جمشیدعلی، مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی، مولانا موسی خان بازی، مولانا مفتی رشیداحمد لدھیانوی، مولانا سحبان محمود اور مولانا سلیم اللہ خان رحمہم اللہ جیسے نامور علمائے کرام کے نام آتے ہیں۔
مولانا غلام اللہ خان اور مولانا عبداللہ درخواستی رحمہماللہ سے قرآن فرہمی کے رموز سیکھنے کی سعادت بھی حاصل کی۔ آپ 1382 ہجری میں دارالعلوم کراچی سے فارغ التحصیل ہوئے۔
مولانا محمدانور کئی سالوں سے ایرانی اہل سنت کے پرانے دینی ادارہ ’عین العلوم گشت‘ میں مشکاة المصابیح اور صحیح مسلم پڑھاتے تھے۔
ان کی موت سے ایران و پاکستان میں پھیلے ان کے شاگردوں اور متعلقین کو بڑا صدمہ پہنچا ہے۔ مولانا محمدانور کراچی کے معروف دینی اداروں میں انتہائی قابل قدر تھے یہاں تک کہ 2009ء کو جامعة الرشید کراچی میں مفتی رشید احمد لدھیانوی کے اجل خلفاء و تلامذہ کے تین روزہ اجتماع کی اختتامی نشست ان ہی کی دعا سے اختتام پذیر ہوئی۔
مولانا محمدانور کی نماز جنازہ آج دوپہر کو نماز ظہر کے بعد سراوان میں ادا کی جائے گی۔

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago