FILE -- In this March 9, 2016 file photo, smoke rises from a building, where Taliban insurgents hide during a fire fight with Afghan security forces, in Helmand province, Afghanistan. For the past month, the Taliban have held control over most of Afghanistan’s Helmand province, where the majority of the world’s opium is grown -- and as insurgent attacks intensify around the provincial capital, residents are blaming rampant government corruption for the rising militant threat. At an international aid conference in Brussels that closed Wednesday, Oct. 5, 2016, Afghanistan’s leaders pledged to clamp down on graft, but corrupt officials have hollowed out national security forces and are alienating local populations. (AP Photo, File)
افغانستان کے شمال مغربی صوبے قندوز میں طالبان مزاحمت کاروں نے دو روز کی شدید لڑائی کے بعد ایک ضلع کے ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کر لیا ہے۔ طالبان اور افغان فورسز کے درمیان اس لڑائی میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
پولیس کے علاقائی کمانڈر محفوظ اکبری نے کہا ہے کہ طالبان نے قندوز میں ضلع قلعہ ذال کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے لیکن سکیورٹی فورسز اب ان کا پیچھا کررہی ہیں۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ فریقین کے درمیان لڑائی میں کل کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور زخمیوں کی تعداد کیا رہی ہے کیونکہ ابھی لڑائی جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں کمک بھیج دی گئی ہے اور دشمن افغان سکیورٹی فورسز کے زمینی اور فضائی حملے کی زد میں ہے اور بہت جلد ہماری فورسز چھینے گئے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرلیں گی۔
انھوں نے مزید بتایا ہے کہ لڑائی کے نتیجے میں بیسیوں مقامی لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر ہمسایہ اضلاع کی جانب چلے گئے ہیں۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان ضلع ذال پر اپنے جنگجوؤں کے قبضے کی تصدیق کی ہے۔ صوبائی کونسل کے ایک رکن ربانی ربانی نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے مختلف اطراف سے افغان سکیورٹی فورسز کے چیک پوائنٹس پر حملہ کیا تھا۔ وہ ہفتے کی صبح تمام ضلع پر قبضے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اس وقت ان کا قلعہ ذال پر مکمل کنٹرول ہے۔
ادھر جنوبی صوبے ہلمند میں ایک چیک پوائنٹ پر چار افغان پولیس افسروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔صوبائی پولیس سربراہ آقا نور قنطز نے بتایا ہے کہ ان افسروں پر جمعہ کی شب صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ کے نواح میں واقع ایک چیک پوائنٹ پر فائرنگ کی گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ان چاروں پر ممکنہ طور پر اندر سے ہی کسی نے حملہ کیا ہے لیکن بات اس کا پتا تحقیقات کے بعد ہی چل سکے گا۔ فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں طالبان مزاحمت کاروں نے افغان سکیورٹی فورسز پر حملے تیز کررکھے ہیں۔
یادرہے کہ طالبان گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران میں دو مرتبہ قندوز شہر اور اس کے نزدیک واقع ایک اور ضلع خان آباد پر قبضہ کرچکے ہیں لیکن ان کا یہ قبضہ تھوڑے دنوں تک ہی برقرار رہا تھا اور انھیں ہفتے عشرے کے بعد ہی افغان فورسز نے امریکا کے لڑاکا طیاروں کے حملوں اور نیٹو فوجیوں کی مدد سے ان شہروں سے نکال باہر کیا تھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…