Categories: عالم اسلام

افغانستان : طالبان کا صوبہ قندوز میں ایک ضلع کے ہیڈکوارٹرز پر قبضہ

افغانستان کے شمال مغربی صوبے قندوز میں طالبان مزاحمت کاروں نے دو روز کی شدید لڑائی کے بعد ایک ضلع کے ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کر لیا ہے۔ طالبان اور افغان فورسز کے درمیان اس لڑائی میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
پولیس کے علاقائی کمانڈر محفوظ اکبری نے کہا ہے کہ طالبان نے قندوز میں ضلع قلعہ ذال کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے لیکن سکیورٹی فورسز اب ان کا پیچھا کررہی ہیں۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ فریقین کے درمیان لڑائی میں کل کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور زخمیوں کی تعداد کیا رہی ہے کیونکہ ابھی لڑائی جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں کمک بھیج دی گئی ہے اور دشمن افغان سکیورٹی فورسز کے زمینی اور فضائی حملے کی زد میں ہے اور بہت جلد ہماری فورسز چھینے گئے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرلیں گی۔
انھوں نے مزید بتایا ہے کہ لڑائی کے نتیجے میں بیسیوں مقامی لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر ہمسایہ اضلاع کی جانب چلے گئے ہیں۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان ضلع ذال پر اپنے جنگجوؤں کے قبضے کی تصدیق کی ہے۔ صوبائی کونسل کے ایک رکن ربانی ربانی نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے مختلف اطراف سے افغان سکیورٹی فورسز کے چیک پوائنٹس پر حملہ کیا تھا۔ وہ ہفتے کی صبح تمام ضلع پر قبضے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اس وقت ان کا قلعہ ذال پر مکمل کنٹرول ہے۔
ادھر جنوبی صوبے ہلمند میں ایک چیک پوائنٹ پر چار افغان پولیس افسروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔صوبائی پولیس سربراہ آقا نور قنطز نے بتایا ہے کہ ان افسروں پر جمعہ کی شب صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ کے نواح میں واقع ایک چیک پوائنٹ پر فائرنگ کی گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ان چاروں پر ممکنہ طور پر اندر سے ہی کسی نے حملہ کیا ہے لیکن بات اس کا پتا تحقیقات کے بعد ہی چل سکے گا۔ فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں طالبان مزاحمت کاروں نے افغان سکیورٹی فورسز پر حملے تیز کررکھے ہیں۔
یادرہے کہ طالبان گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران میں دو مرتبہ قندوز شہر اور اس کے نزدیک واقع ایک اور ضلع خان آباد پر قبضہ کرچکے ہیں لیکن ان کا یہ قبضہ تھوڑے دنوں تک ہی برقرار رہا تھا اور انھیں ہفتے عشرے کے بعد ہی افغان فورسز نے امریکا کے لڑاکا طیاروں کے حملوں اور نیٹو فوجیوں کی مدد سے ان شہروں سے نکال باہر کیا تھا۔

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago