بھارتی حکومت نے مسلمان دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے یارو مددگار میانمار کے دس ہزار سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کرنے پر غور شروع کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس سلسلے سیکرٹری داخلہ راجیو میریشن کی زیر صدارت ایک اعلی سطح اجلاس ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر کے چیف سیکرٹری براج راج شرما ڈائریکٹر جنرل اف پولیس ایس پی وید نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی حکومت کی جانب سے وادی میں موجود روہنگیا مسلمانوں کو نکالنے کے لئے تجاویز پیش کی گئیں۔ ان روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت جموں اور سامبا کے اضلاع میں پناہ لئے ہوئے ہے۔ ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ ان روہنگیا مسلمانوں کی شناخت کر کے ملک بدر کیا جائے جبکہ مقبوضہ کشمیر کی حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے اعدادو شمار کے مطابق ان روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 6 ہزار تھی جو اب 10 ہزار سے زائد ہونے کا امکان ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…