بھارتی حکومت نے مسلمان دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے یارو مددگار میانمار کے دس ہزار سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کرنے پر غور شروع کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس سلسلے سیکرٹری داخلہ راجیو میریشن کی زیر صدارت ایک اعلی سطح اجلاس ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر کے چیف سیکرٹری براج راج شرما ڈائریکٹر جنرل اف پولیس ایس پی وید نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی حکومت کی جانب سے وادی میں موجود روہنگیا مسلمانوں کو نکالنے کے لئے تجاویز پیش کی گئیں۔ ان روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت جموں اور سامبا کے اضلاع میں پناہ لئے ہوئے ہے۔ ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ ان روہنگیا مسلمانوں کی شناخت کر کے ملک بدر کیا جائے جبکہ مقبوضہ کشمیر کی حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے اعدادو شمار کے مطابق ان روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 6 ہزار تھی جو اب 10 ہزار سے زائد ہونے کا امکان ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار