بین الاقوامی شناخت رکھنے والاہندوستان کا مشہور علمی وتحقیقی ادارہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کاچھبیسواں عظیم الشان فقہی سیمینار نہایت ہی تزک واحتشام کے ساتھ جاری ہے ۔
آج دن کی شروعات کے ساتھ تقریبادس بجے سیمینارکاافتتاحی پروگرام شروع ہواجس کی صدارت اکیڈمی کے صدراوردارالعلوم دیوبندکے استاذحدیث مولانانعمت اللہ اعظمی نے کی۔پہلی نشست ملک وبیرون ملک سے تشریف لائے ہوئے موقرعلمائے کرام واسلامی اسکالرس نے فقہی سیمینارکی ضرورت،اہمیت وافادیت پرتفصیل سے روشنی ڈالی۔
اجلاس کے آغاز میں فقہی سیمینارکی مقامی منتظم مجلس اتحادامت کے سرپرست مولانااشفاق الرحمن مفتاحی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔مولانامفتاحی نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں شہراجین کی تاریخ اوراس کی مذہبی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اوجین مدھیہ پردیش کاقدیم،مرکزی اورتاریخی شہرہے،مذہبی نقطۂ نظرسےبرادران وطن کے نزدیک سرزمین اوجین مقدس ومتبرک مانی جاتی ہے،یہ شہرشپراندی کے کنارہ پرواقع ہے جس سے برادران وطن کوغایت درجہ کاعقیدت وتعلق ہے،یہاں تک کہ اس کے پانی سے غسل کرنے کونجات اورگناہوں سے مکتی پانے کاذریعہ ماناجاتاہے۔اس شہرکی بنیادوں میں انسانیت،اخلاق،ایثاروہمدردی،اتحادویگانگت اورباہمی رواداری جیسی اعلیٰ صفات پیوست ہیں،یہاں تہذیبیں برسرپیکارنہیں رہتیں،بلکہ یہاں کی صاف ستھری فضامیں ہرانسانی تہذیب کوسانس لینے،نشوونماپانے اورپھلنے پھولنے کا موقع ملتاہے۔اوجین میں اسلام کی آمدپرگفتگوکرتے ہوئے کہا کہ جب عہدنبوی میں معجزہ شق القمرکاواقعہ پیش آیاتواوجین سے نزدیک شہردھارمیں صوبہ مالوہ کے راجہ نے بچشم خودچاندکے دوٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا اوراس حیرت انگیز واقعہ کی تحقیق وتفتیش کے لئے ایک وفدمکہ مکرمہ بھیجا،ارکان وفدنے وہاں پہنچ کرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی،باہم گفتگوہوئی ،انہوں نے اسلام قبول کیا اورداعی بن کرواپس لوٹے اورراجہ کوبھی حلقہ بگوش اسلام کیا۔مولانامفتاحی نے اخیرمیں اکیڈمی کے ذمہ داران ،کارکنان اورملک وبیرون ملک سے تشریف لائے علمائے کرام کاشکریہ اداکیااوردل کی گہرائیوں سے خوش آمدیدکہا۔مجلس استقبالیہ کے صدرمولاناطیب ندوی نے مہمانوں کوخوش آمدیدکہتے ہوئے اپنے خطبہ استقبالیہ میں مجلس اتحادامت کے قیام اوراغراض ومقاصدپرتفصیل سے روشنی ڈالی۔مولاناندوی نے کہا کہ جب اجین شہرکی مقتداومقتدرشخصیات کاانخلاہونے لگا،امت مسلمہ کے زخم پرمرہم رکھنے والے،ان کے جذبات کاپاس ولحاظ رکھنے والے،ان کی فکری ونظری تربیت کرنے والے اوران کے دردکادرماں اورتن مردہ میں روح پھونکنے والے جب دنیاسے داغ مفارقت دینے لگے تومسلمانان شہرکے حالات زارکے لئے کوئی فردواحدنظرنہیں آیاتوسن 2004 میں کنبھ کے موقع پرمسلمانوں کے مقامات مقدسہ کوخطرہ لاحق ہوا،فسطائی طاقتیں اپنااثردکھلانے لگیں،زبان وقلم کے ذریعہ زہرافشانی پھیلانے لگیں،خصوصانوجوانوں کوہراساں وپریشان کیاجانے لگاحتی کہ منصوبہ بندطریقہ سے ایک خاص طبقہ کوزدوکوب کیاجانے لگاتوایسے موقع پرمختلف مکاتب فکرکے علمائے کرام وائمہ عظام امت مسلمہ کے مسائل کوحل کرنے،ان کی رہنمائی ورہبری کے لئے سرجوڑکربیٹھے اورایک تنظیم مجلس اتحادامت کے نام سے قائم کی گئی جس کے اغراض ومقاصدمیں ملی مسائل کوحل کرنابلاتفریق مذہب وملت خدمت خلق کرنا،مسلمانوں کی تعلیمی ومعاشی صورت حال کاجائزہ لے کراس کانظم کرنا،اصلاح معاشرہ کے جلسے کے ذریعہ سماج میں پھیلی ہوئی برائیوں کودورکرنا،پیام انسانیت کے جلسے کرکے برادران وطن میں اسلام اورمسلمانوں کے تئیں پھیلی ہوئی بدگمانیوں کودورکرنااورآپسی بھائی چارگی پیداکرناہے،بے قصورنوجوانوں کی گرفتاریوں کولے کرحکومت کے اعلیٰ افسران سے گفتگوکرکے ان کے مسائل کوحل کرناتنظیم کے اہم مقاصدمیں شامل ہیں،اس قلیل عرصہ میں اپنی بے سروسامانی ومحدوداسباب ووسائل کے باوجودتنظیم نے مقدوربھرکوشش کی اورعوام الناس کااعتمادحاصل کیا،اللہ تعالیٰ ان ادنیٰ کاوشوں کوقبول فرماکردارین کی سعادت ہمیں نصیب فرمائے آمین۔
سیمینارکی دوسری نشست بعدنمازمغرب شروع ہوئی ۔اس نشست کی صدارت امیرشریعت کرناٹک مفتی اشرف علی باقوی نے کی جب کہ نظامت کے فرائض اکیڈمی کے سکریٹری اوردارالعلوم ندوۃ العلمالکھنؤ کے استاذحدیث وفقہ مولاناعتیق احمدبستوی نے انجام دئیے ۔اس نشست میں ’’سرکاری اسکیموں سے استفادہ کاحکم‘‘ کے موضوع پرملک بھرسے جمع ہوئے علما واسکالرس نے بحث ومباحثہ میں حصہ لیا۔اس نشست کے مرکزی موضوع’’سرکاری اسکیموں سے استفادہ کاحکم‘‘ پر57 علمانے مقالے لکھے ۔اس عنوان کے تحت 12 سوالات مرتب کئے گئے تھے جس پرعلمانے قرآن وحدیث اورائمہ وعلماکی تحقیق سے استفادہ کرکے جوابات لکھے۔اس نشست میں عرض مسئلہ کے تحت 12 سوالوں میں سے 5 سوالات کودارالعلوم ندوۃ العلما لکھنوکے استاذ مولانارحمت اللہ ندوی نے پیش کیااوربقیہ 7؍سوالات کومولاناصابرحسین ندوی نے پیش کیا۔اس موضوع پرلکھے گئے مقالات کی تلخیص کااہم کارنامہ اکیڈمی کے رفیق علمی مفتی احمدنادرالقاسمی نے انجام دیا۔نشست کے آخرمیں اکیڈمی کے جنرل سکریٹری اوربین الاقوامی شہرت کے حامل فقیہ مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے مذکورہ مسائل سے متعلق مدلل ومفصل گفتگوفرمائی ۔آخرمیں مفتی اشرف علی باقوی کرناٹک کی صدارتی کلمات ودعاپرنشست کااختتام ہوا۔
واضخ رہے کہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکااجین میں منعقدہونے والایہ سیمینار6؍مارچ تک چلے گا۔پروگرام کی ترتیب کچھ اس طرح ہے ۔سیمینارکی تیسری نشست 5؍مارچ اتوارکوصبح 9؍بجے شروع ہوگی ۔اس نشست کامرکزی موضوع’’زمین کی خریدوفروخت سے متعلق مسائل‘‘ ہے ۔اس نشست کی صدارت مفتی احمددیولوی فرمائیں گے جبکہ نظامت کافریضہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولاناخالدسیف اللہ رحمانی انجام دیں گے ۔اس نشست میں عرض مسئلہ مولانامحبوب احمدفروغ قاسمی،مفتی محمدعثمان بستوی،مفتی ابصاراحمدندوی پیش کریں گے۔سیمینارکی چوتھی نشست دن کے ساڑھے گیارہ بجے شروع ہوگی ۔اس نشست کامرکزی موضوع ’’سوناچاندی کی خریدوفروخت سے متعلق مسائل‘‘ ہے ۔ اس نشست کی صدارت مفتی محبوب علی وجیہی مفتی شہررامپور فرمائیں گے جب کہ نظامت کے فرائض اکیڈمی کے سکریٹری مولاناعتیق احمدبستوی انجام دیں گے ۔اس نشست میں عرض مسئلہ ڈاکٹرمولانامحمدشاہ جہاں ندوی،مفتی محمداشرف قاسمی گونڈوی پیش کریں گے ۔پانچویں نشست بعدنمازمغرب منعقدہوگی جس کی صدارت مفتی صادق محی الدین فہیم نظامی حیدرآباد فرمائیں گے جب کہ نظامت کافریضہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولاناخالدسیف اللہ رحمانی انجام دیں گے ۔اس نشست کامرکزی موضوع’’فضائی وصوتی آلودگی‘‘ ہے۔اس نشست میں عرض مسئلہ ڈاکٹرظفرالاسلام صدیقی،مفتی راشدحسین ندوی،مولانااخترامام عادل قاسمی پیش کریں گے ۔یادرہے کہ تمام نشستوں میں عرض مسئلہ کے بعدشرکاکومناقشہ اورمباحثہ کاموقع دیاجاتاہے ۔سیمینارکی آخری نشست 6؍مارچ بروزسوموار صبح ساڑھے دس بجے منعقدہوگی ۔اس نشست کی صدارت مولانامحمدقاسم مظفرپوری فرمائیں گے جب کہ نظامت کے فرائض اکیڈمی کے سکریٹری مولاناعبیداللہ اسعدی انجام دیں گے ۔اس نشست میں سیمینارتجاویزکمیٹی کی جانب سے تیارکی گئی تجاویزکی خواندگی اوراس کی توثیق عمل میں آئے گی ۔نشست کے آخرمیں سرکردہ علما واکابرامت اپنے تاثرات بیان فرمائیں گے ۔اس موقع پرمولاناشاہ فضل الرحیم مجددی،مولانامحمدیوسف صاحب آسام،مولانامحفوظ الرحمن شاہین جمالی،مولانامحمدسفیان قاسمی،مفتی شبیراحمدقاسمی اورمفتی سلمان منصورپوری اپنے اپنے تاثرات بیان فرمائیں گے ۔اسی دن شام کے 5 بجے سے رات کے دس بجے تک شہرکے مشہوراسٹیڈیم میں اجلاس عام منعقدکیاجائے گاجس میں اکابرامت وزعمائے قوم وملت کاپرمغزخطاب ہوگا۔
بصیرت آن لائن
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…
View Comments
بارك الله في حياة علماء أهل السنة والجماعة في الهند وإيران