بااثر انڈین سیاسی رہنما اور انڈین مسلمانوں کے لیے اہم شخصیت، 82 سالہ سید شہاب الدین نئی دہلی کے مضافاتی علاقے نوئیڈا کے ہسپتال میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔
سابق سفیر سید شہاب الدین بابری مسجد کے انہدام کے شدید مخالف تھے اور یہ مخالفت ان کی وجہ شہرت میں سے ایک تھی۔ سید شہاب الدین بابری ایکشن کمیشن کے سربراہ بھی رہے جو کہ ایودھیا میں سہولویں صدی میں تعمیر ہونے والی مسجد کے تحفظ کے لیے کام کرتی تھی۔
1979 سے لے کر 1996 تک انھوں نے بطور رکن پارلیمان تین دفعہ خدمات سر انجام دیں اور ساتھ ساتھ سلمان رشدی کی کتاب ’سٹانیک ورسس‘ پر پابندی لگائے جانے کی مہم میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
سید شہاب الدین کو عالمی شہرت ان کی ’سٹانک ورسس‘ کے خلاف مہم کے بعد ملی۔ واضح رہے کہ سلمان رشدی کی 1988 میں شائع ہونے والی کتاب کے خلاف دنیا بھر کے مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا تھا اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ اس کتاب کی وجہ سے ان کے مذہبی احساسات مجروح ہوئے ہیں۔
اس کتاب کی انڈیا میں درآمد پر پابندی کی پیچھے سید شہاب الدین کا ہاتھ سمجھا جاتا ہے۔
انڈین دفتر خارجہ کے ساتھ کام کرنے کے علاوہ سید شہاب الدین نے آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت کی سربراہی بھی کی تھی۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…