اور ایک روشن چراغ گل ہوگیاجنکو ہزاروں سوگوروں نے نہایت نمناکی کے ساتھ وقت پر سپرد خاک کردئے۔
مفتی عبدالحنان فیضی ؒ کے وفات حسرت آیات کی خبر عالم اسلام پر کسی برق گرنے سے کم نہ تھی۔ یکایک سکوت طاری ہوگیا۔ دنیابھر میں پھیلے دین حنیف کی خدمت انجام دینے والے شاگردان کے لئے یہ اطلاع باعث بار سے کم نہ تھی تھی ۔ یوں تو موت ایک امر الہی ہے جس کاوقت موعود پر ہونا طے شدہ بات ہے مفروانکار کی قطعی گنجائش نہیں۔
خبرآنافانا ہندونیپال اور دیگر ممالک میں نارفلاط کی طرح پھیل گئی کہ لوگ عقیدت ومحبت اور آخری کندھادینے کے لئے دوردراز سے جوق درجوق پہنچنا شروع ہوگئے۔ اور کم وبیش پانچ ہزار کا ٹھاٹھ مارتا مجمع جھنڈانگر مقبرے میں موجود بارگاہ صمدیت میں صف بستہ دعائیں کررہاتھا۔
جنازہ کی نماز معروف عالم دین اور شیخ الحدیث علامہ ومحدث اور صاحب تحفۃ الاحوذی مبارکپوری کے صاحبزادے عبدالرحمن مبارکپوری نے پڑھائی۔ اللھم أغفرله وأرحمه واعفه واعف عنه واكرم نزله من الدنس ۔
اللہ سوگواروں کو صبرجمیلبخسے کی توفیق بخشے۔
ھارون فیضی
بصیرت آن لائن
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…