اور ایک روشن چراغ گل ہوگیاجنکو ہزاروں سوگوروں نے نہایت نمناکی کے ساتھ وقت پر سپرد خاک کردئے۔
مفتی عبدالحنان فیضی ؒ کے وفات حسرت آیات کی خبر عالم اسلام پر کسی برق گرنے سے کم نہ تھی۔ یکایک سکوت طاری ہوگیا۔ دنیابھر میں پھیلے دین حنیف کی خدمت انجام دینے والے شاگردان کے لئے یہ اطلاع باعث بار سے کم نہ تھی تھی ۔ یوں تو موت ایک امر الہی ہے جس کاوقت موعود پر ہونا طے شدہ بات ہے مفروانکار کی قطعی گنجائش نہیں۔
خبرآنافانا ہندونیپال اور دیگر ممالک میں نارفلاط کی طرح پھیل گئی کہ لوگ عقیدت ومحبت اور آخری کندھادینے کے لئے دوردراز سے جوق درجوق پہنچنا شروع ہوگئے۔ اور کم وبیش پانچ ہزار کا ٹھاٹھ مارتا مجمع جھنڈانگر مقبرے میں موجود بارگاہ صمدیت میں صف بستہ دعائیں کررہاتھا۔
جنازہ کی نماز معروف عالم دین اور شیخ الحدیث علامہ ومحدث اور صاحب تحفۃ الاحوذی مبارکپوری کے صاحبزادے عبدالرحمن مبارکپوری نے پڑھائی۔ اللھم أغفرله وأرحمه واعفه واعف عنه واكرم نزله من الدنس ۔
اللہ سوگواروں کو صبرجمیلبخسے کی توفیق بخشے۔
ھارون فیضی
بصیرت آن لائن
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…