اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا وفد میانمار کی فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانے کی تحقیقات کے لئے راکھنی ریاست پہنچ گیا۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی جبر کا نشانہ بنائے جانے کی خبریں عالمی میڈیا میں آنے کے بعد اقوام متحدہ کا ایک وفد ینگی لی کی قیادت میں تحقیقات کے لئے ریاست راکھنی پہنچ گیا۔ وفد 12 روزہ دورے کے دوران متاثرہ افراد سے ملاقاتیں کرے گا اوران کے بیانات کی روشنی میں رپورٹ مرتب کرے گا۔
اقوام متحدہ کے مندوب ینگی لی دارالحکومت نیپیداو پہنچے جہاں انہوں نے حکمراں جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے سینئر حکام اور عسکری حکام سے ملاقات کی تاہم حکمراں جماعت کو کنٹرول کرنے والی نیشنل پارٹی کے اراکین نے اقوام متحدہ کے وفد سے ملنے سے صاف انکار کردیا اور ان کی روہنگیا مسلمانوں تک رسائی کی شدید مخالفت کی۔
ینگی لی نے مسلم اقلیتوں کو محصور کرنے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوج کی جانب سے مسلم خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنا اور معصوم لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی عالمی تحقیقات ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران میانمار کی فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا جس کے دوران 65 ہزار افراد بنگلادیش جانے پر مجبور ہوئے۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید