سوئٹزرلینڈ میں بھی چہرے کے نقاب پر پابندی کے لیے قانون سازی

سوئٹزر لینڈ کی پارلیمان کے ایوان زیریں نے خواتین کے چہرے کے نقاب پر پابندی کے لیے بل کی معمولی اکثریت سے منظوری دے دی ہے۔
یہ بل دائیں بازو کے سیاست دان والٹر ووبمین نے پیش کیا تھا۔یہ وہی صاحب ہیں جنھوں نے 2009ء میں سوئٹزرلینڈ میں مساجد کے نئے میناروں کی تعمیر پر پابندی کے لیے کامیابی سے مہم چلائی تھی۔اب ان کا بل ایوان بالا میں بحث اور رائے شماری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ایوان بالا اور حکومت کی جانب سے منظوری کے بعد یہ بل قانون بن بن جائے گا۔
ووبمین تارکین وطن مخالف پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کا موقف ہے کہ مسلم خواتین کے چہرے پر نقاب اوڑھنے سے متعلق بل سے سوئس ثقافت کو محفوظ بنایا جاسکے گا اور ریڈیکل اسلام کو روک لگائی جاسکے گی۔وہ اس معاملے پر ریفرینڈم کے انعقاد کے لیے بھی تحریک چلا رہے ہیں۔
ان کی جماعت کی سوئس پارلیمان میں سب سے زیادہ نشستیں ہیں۔اس نے 2015ء میں منعقدہ عام انتخابات میں قریباً تیس فی صد نشستیں جیتی تھیں اور اس نے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دوسرے ارکان کی مدد سے یہ قانون متعارف کرایا تھا۔
تاہم اس قانون کو ایوان بالا میں مشکل ہی سے منظور کرایا جا سکے گا کیونکہ وہاں سوشل ڈیموکریٹک ایسی جماعتیں اس پابندی کی مخالفت کررہی ہیں اور ان کی ایوان بالا میں زیادہ نشستیں ہیں۔
اگست میں رائے عامہ کے ایک جائزے میں 71 فی صد سوئس رائے دہندگان نے ملک بھر میں برقع پر پابندی کی حمایت کی تھی۔اس سال کے اوائل میں سوئٹزر لینڈ کے اطالوی زبان بولنے والوں کے علاقے ٹیچینو میں مقامی اور باہر سے آنے والی خواتین پر برقع اوڑھنے پر پابندی عاید کردی گئی تھی۔
واضح رہے کہ سوئٹزر لینڈ کی قریباً پانچ فی صد آبادی مسلمان ہے اور ان میں بہت کم خواتین مکمل نقاب یا برقع اوڑھتی ہیں۔
سوئٹزر لینڈ میں حال ہی میں دائیں بازو کی تحریکوں کی جانب سے بعض ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جس سے ملک میں دائیں اور بائیں بازو کے درمیان اختلافات کی خلیج گہری ہوئی ہے اور بیرون ملک سے بھی ان پر تنقید کی گئی ہے۔ان اقدامات میں یورپی یونین کے رکن ممالک سے امیگریشن پر پابندی سے متعلق ریفرینڈم بھی شامل ہے۔

العربیہ

baloch

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

8 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago