مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد شفیع رحمہ اللہ، حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ کے شاگردرشید، مکران ڈویژن صوبہ بلوچستان کے مفتی اعظم، امن کمیٹی مکران ڈویژن کے رکن، وفاق المدارس العربیہ مکران ڈویژن کے مسؤل و ناظم، جامعہ رشیدیہ آسیاآباد کے بانی و رئیس، ہزاروں علماء کے استاذ حضرت مولانا مفتی احتشام الحق آسیا آبادی رحمہ اللہ اور ان کے بیٹے حضرت مولانا شبیراحمد کو ۱۹/شوال المکرم ۱۴۳۷ھ مطابق ۲۴؍جولائی ۲۰۱۶ء بروز اتوار بعد نماز عصر ظالم قاتلوں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ اناللہ و اناالیہ راجعون، ان للہ ما أخذ و لہ ما أعطی و کل شیء عندہ بأجل مسمّیٰ۔
حضرت مولانا مفتی احتشام الحق آسیاآبادی رحمہ اللہ ۱۳؍ربیع الاول ۱۳۶۸ھ مطابق ۱۲؍نومبر ۱۹۴۸ء کو ضلع کیچ، تربت کے دور افتادہ گاؤں آسیاآباد میں ایک کسان کے گھر پیدا ہوئے۔ جس علاقے میں مفتی صاحب شہید نے آنکھ کھولی وہاں ہر طرف جہالت ہی جہالت تھی، یہاں تک کہ جنازہ پڑھانے والے نہ ہونے کی وجہ سے کتنے لوگ بغیر جنازہ کے دفنائے گئے، مفتی شہید رحمہ اللہ کے والد کسان پیشہ تھے، اکثر ان کی گزر بسر کھیتوں ہی پر تھی۔
آپ رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم آسیاآباد کے پرائمری اسکول سے حاصل کی، ساتھ ساتھ محلے کے دین دار شخص ملامحمد مراد سے قرآن کریم بھی پڑھا۔ پرائمری پاس کرنے کے بعد مڈل اسکول نظر آباد میں داخلہ لیا، مڈل پاس کرنے کے بعد باقاعدہ دینی تعلیم کے لیے جامعہ مفتاح العلوم سورو پنجگور میں داخلہ لیا، جامعہ مفتاح العلوم سورو پنجگور میں دو سال کے عرصے میں تین سال کی کتب پڑھ لیں۔ موصوف کو مطالعہ کا شوق تو مزید اُبھرا۔ پنجگور میں پڑھائی کے دوران کسی استاذ نے مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ کا تذکرہ کیا تو مفتی شہید نے بذریعہ خط و کتابت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ سے رابطہ کیا اور خواہش پر اعلی تعلیم کے لیے کراچی تشریف لے آئے، کراچی میں سب سے پہلے مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ سے ملاقات کی۔ حضرت مفتی رشید احمد کے مشورے سے جامعہ دارالعلوم کراچی میں داخلہ لیا۔ دارالعلوم کراچی میں تعلیم کے دوران ہر جمعہ اور شب جمعہ کو حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی قدس سرہ کا رعظ سننے کے لیے ان کی مسجد میں جایا کرتے تھے۔ شرح جامی کے سال میں مفتی رشید احمد لدھیانوی نے آپ کو افتاء کی مشق شروع کرادی تھی۔ ۱۹۷۵ء میں دارالعلوم کراچی سے فراغت کے بعد باقاعدہ دارالافتاء و الارشاد میں تخصص فی الفقہ میں داخلہ لیا، وہیں مفتی رشید احمد کے زیر سایہ ہزاروں مسائل اور چوبیس سے زائد مقالے تحریر کیے۔ تخصص کے دوران عشاء کے بعد گیارہ بجے رات تک حضرت مفتی رشید احمد قدس سرہ کے گھر میں بیٹھ کر کسب فیض کیا۔ جس زمانے میں جیکب لائن کے مفتی اکمل رحمہ اللہ حادثے کے وجہ سے صاحب فراش تھے، اس زمانے میں جیکب لائن کے مسائل حضرت اقدس مفتی رشید احمد کو بھیجے جاتے اور مفتی شہید جواب لکھ کر حضرت اقدس کو دکھا کر بغیر تصدیقی دستخط کیے جہانگیر روڈ میں حضرت اکمل صاحب سے تصدیق کرا کر مہر لگوا کر سائل تک مسئلہ بھیج دیتے۔
تخصص کے بعد اپنے استاد خاص مفتی رشید احمد لدھیانوی کے حکم و ارشاد سے علاقے میں آئے اور وہیں ۱۸؍شعبان المعظم ۱۳۹۶ھ مطابق ۱۶؍اکتوبر ۱۹۷۶ء میں جامعہ رشیدیہ آسیاآباد کا سنگ بنیاد رکھا اور وہاں شروع ہی سے سال اول سے افتاء اور قضا کا عملی کام شروع کردیا، اس وقت پورے مکران ڈویژن میں با قاعدہ فقہ اسلامی کا کوئی متخصص نہیں تھا۔ تعلیم کے حصول سے فراغت کے بعد ۱۳۹۶ھ مطابق ۱۹۷۶ء میں پیلو کے ایک درخت کے نیچے جامعہ رشیدیہ کی تاسیس کے ساتھ تدریس شروع کی اور سب سے پہلے جامعہ میں قرآن مجید کی تعلیم کی ابتدا کی۔ مولانا حافظ خداداد کو سب سے پہلا سبق پڑھایا، اس وقت سے لے کر شہادت کے دن تک جامعہ میں تدریس کرتے رہے، درمیان میں پانچ چھ مہینے جامعۃ الرشید کراچی میں بھی تدریس کی اور شہادت کے دن عصر کے بعد آخری سبق پڑھایا اور تقریباً پنتالیس منٹ نہیں گزرے تھے کہ حضرت کی شہادت کی دردناک خبر آئی۔ سیاست ملکی میں مفتی شہید کا ایک حصہ تھا۔ اپنے استاد و مرشد کے ارشاد پر جمعیت علماء اسلام پاکستان میں عملاً کام کیا اور ایک لمبے عرصے تک جمعیت علماء اسلام تربت ضلع کے امیر رہے۔ علاقے میں سیاست اور مذہب کے جداگانہ حیثیت کے نظریئے کے پرچار کا تدارک کیا اور ایک وسیع مذہبی سیاسی حلقے کی ترویج کی، کیونکہ اس کے مطابق سیاست مفادات کا نہیں، بلکہ خدمت خلق کا نام تھا، جس کا اسلام سے بڑھ کر کوئی داعی نہیں ہوسکتا تھا۔
حضرت مفتی شہید رحمہ اللہ نے دوسری دینی خدمات کے ساتھ ساتھ تالیفات و تحریرات کے میدان میں بھی توجہ دی۔ مختلف موضوعات پر کئی کتابیں تحریر فرمائیں اور کئی کتابوں کے ترجمے بھی کئے۔ ذکری فرقے کی تردید میں: ذکری دین کی حقیقت، ذکری مذہب کے عقائد و اعمال اور ماھی الذکریۃ؟ کے نام سے کتابیں لکھیں۔ تعلیم الاسلام، اربعین نووی، عقیدۃ الطحاوی کا بلوچی زبان میں ترجمہ کیا۔ اصول الشاشی کی تسہیل و تلخیص بھی کی۔ مدارۃ الناس اور کتاب الیقین کا اردو میں بھی ترجمہ کیا۔ اسی طرح بلوچی زبان میں چت و چینک، مات و پتء حق، عالمگیریں مذہب، کتاب الصبر بھی تحریر فرمائے، اردو میں آپ کا شعری مجموعہ کا کچھ حصہ ’’کلام آسی‘‘ کے نام سے بھی منظر عام پر آچکا ہے۔ ان کے عربی و فارسی اشعار پر مشتمل مجموعہ ’’افکارِ آسی‘‘ مکمل اور قریب الاشاعت ہے۔حضرت کی دیگر کتب میں ’’فتنوں کی دنیا‘‘ اصول افتا پر لکھی گئی تمرینی کتاب ’’اصول الافتاء‘‘ سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نظریاتی پہلو، فتنۂ انکارِ حدیث پر ایک طائرانہ نظر، الباقیات الصالحات، الجواب الشافی، فکر و نظر، درسِ حدیث، درس قرآن اور التحقیق الأنیق بتوفیق الغفار فی وقوع الطلاق بلفظ مات و گوھار و غیرہ شامل ہیں۔ حضرت شہید رحمہ اللہ کے تحریر کردہ فتاویٰ کے مجموعے پر کام جاری ہے جو بتوفیق اللہ عنقریب منظر عام پر آجائے گا۔ ابھی حضرت شہید احسن الفتاوی کی تخریج، بلوچی ترجمہ قرآن، تخریج الفتاویٰ الزینیۃ پر کام کررہے تھے کہ دشمنوں اور حاسدوں نے انہیں موقع نہیں دیا اور ہم سے جدا کردیا۔ غرض تیس سے زائد مفتی صاحب کی تصانیف ہیں، جن میں اکثر شائع ہوچکی ہیں۔
شہید مفتی صاحب نے دینی اور معاشرتی سطح پر بے حساب خدمات سرانجام دیں، جن کو اس مختصر مضمون میں ضبط تحریر میں لاناممکن ہی نہیں۔ وفاق المدارس کے قیام کے بعد مکران ڈویژن میں مدارس کے وفاق المدارس کے ساتھ رجسٹریشن اور دوسرے اعمال کی ذمہ داریاں شروع سے تا دمِ شہادت آپ رحمہ اللہ کے کندھوں پر تھیں۔ آپ رحمہ اللہ شروع سے لے کر شہادت تک وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مکران ڈویژن کے مسؤل کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ مکران میں ڈویژن سطح پر امن کمیٹی کا قیام عمل میں لایاگیا، جس کے آپ رحمہ اللہ نہ صرف ممبر تھے بلکہ ضلعی سطح کے چیئرمین کی ذمہ داریوں بھی آپ نبھاتے رہے۔ اس کے علاوہ بلوچ قبائل میں روایتی دشمنیوں کی وجہ سے کئی پشتی خونی تنازعات چلتے رہے ہیں جن کا آپ رحمہ اللہ کو احساس اور ادراک تھا، اسی لیے آپ رحمہ اللہ، ہمیشہ ان تنازعات کو بڑھنے سے روکنے اور دیرینہ خونی دشمنیوں کے تصفیہ کی کاوشوں میں مصروف رہے اور اپنے غیرجانبدارانہ اور مخلصانہ کردار کی وجہ سے کئی خونی قبائلی دشمنیوں کا تصفیہ بھی کرایا، جن کی وجہ سے آپ کو پورے علاقے میں ایک محترم مصالحت کار اور عزت و عظمت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
۱۹؍شوال ۱۴۳۷ھ مطابق ۲۴؍جولائی ۲۰۱۶ء بروز اتوار کو مفتی صاحب شہید رحمہ اللہ نے طلبہ کو عصر کے بعد درس دیا اور اپنے بیٹے مولانا شبیراحمد کے ہمراہ (جو کہ جامعہ کے مدرس تھے) اپنی گاڑی میں کسی رشتہ دار کی عیادت کے لیے روانہ ہوئے اور پونا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ اور ان کے بیٹے کی شہادت کی خبر نے پورے علاقے کو یتیم بنا کر بے نور کردیا۔ دوسرے دن ۲۰؍شوال کو ہزاروں لوگوں کی آہوں سسکیوں اور درد بھری ہچکیون کے ساتھ جاں نثاروں اور عقیدت مندوں نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی۔ آپ رحمہ اللہ کی خدمات کے اعتراف میں آخری اور الوداعی سلام پیش کیا۔ اللہ تعالی آپ کی اور آپ کے بیٹے کی شہادت کو قبول فرمائے اور ان کے درجات بلند عطا فرمائے۔ مفتی شہید رحمہ اللہ کے پسماندگان میں ایک بیوہ ساتھ بیٹے اور چار بیٹیاں موجود ہیں، اللہ تعالی ان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور شہید کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
قارئین بینات سے حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کے لیے ایصالِ ثواب کی درخواست ہے۔
تحریر: محمد اعجاز مصطفی
بشکریہ ماہنامہ بینات۔ ذوالقعدہ ۱۴۳۷ھ
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام