اسکاٹ لینڈ کی پولیس نے مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بطور یونیفارم ’حجاب‘ پہننے کی اجازت دے دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسکاٹ لینڈ پولیس کی جانب سے یہ اجازت مسلم خواتین کی فورس میں شمولیت کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کے طور پر دی گئی ہے۔
اسکاٹ لینڈ کی پولیس میں افسران اور دیگر عملے کو کبھی ان کے مذہبی عقائد کے مطابق سر پر کچھ پہننے سے نہیں روکا گیا، لیکن اب اس کے باقاعدہ اعلان سے مسلم خواتین کو حجاب پہننے کی اجازت کے فیصلے کی توثیق ہوگئی ہے۔
ماضی میں بھی اسکاٹش پولیس میں مسلم خواتین کو حجاب پہننے کی اجازت تھی، لیکن اس کے لیے انہیں اپنے اعلیٰ افسر سے اجازت لینی ہوتی تھی۔
اسکاٹ لینڈ پولیس کے چیف کانسٹیبل فِل گورملے کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پولیس فورس کو اسکاٹش معاشرے کی ہر برادری کا نمائندہ ہونا چاہیے۔
اسکاٹ لینڈ پولیس کا یہ اعلان، لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے حجاب کو بطور یونیفارم استعمال کیے جانے کی منظوری کے تقریباً 10 سال بعد سامنے آیا۔
پولیس کے اس فیصلے کا اسکاٹش پولیس مسلم ایسوسی ایشن کے چیئرمین فہد بشیر کی جانب سے بھی خیر مقدم کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صحیح سمت میں ایک مثبت قدم ہے اور مجھے خوشی ہے کہ اسکاٹ لینڈ پولیس، ادارے میں تمام طبقات کی نمائندگی کے لیے تعمیری اقدامات اٹھا رہی ہے، جبکہ اس سے مسلم خواتین اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو پولیس میں شامل ہونے کے لیے حوصلہ ملے گا۔‘
اسکاٹ لینڈ کی پولیس میں اس وقت 6 مسلم خواتین افسران کام کر رہی ہیں۔
ڈان نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…