مولانا نذرالحفیظ نے دریافت کیا: حضرت! حق واضح ہوتاہے اور اس کے دلائل بھی صاف اور روشن ہوتے ہیں، مگر پھر بھی لوگ اس کو تسلیم نہیں کرتے، سب سے بڑا مانع کیا ہے؟
حضرت (مولانا ابوالحسن علی الندوی) نے فرمایا: نفسانیت، لذت، انتفاع، تعلق اور اس طرح کی چیزیں کہ اگر ہم تسلیم کریں تو اس لذت سے محروم رہیں گے، یہ مالی فائدہ جو حاصل ہورہا تھابند ہوجائے گا، فلاں صاحب سے تعلقات خراب ہوجائیں گے، ان کی نظر میں ہماری وقعت نہیں رہے گی۔
تزکیہ انبیا کا مشن ہے
مشائخ کا یہی کارنامہ ہے کہ انھوں نے اسی نفسانیت اور تعلق مع الغیر کو ختم کرنے اور قلب کو علائق دنیویہ سے پاک کرنے کی کوشش کی، یہی انبیا کا مشن تھا، قرآن میں انبیا کی بعثت کے مقاصد کے تحت باربار فرمایا گیاہے: و یزکیھم؛ مشائخ نے بھی اسی جانب توجہ دی۔
مجالس حسنہ، 490
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام