بنگلا دیش میں امیر جماعت اسلامی مطیع الرحمان نظامی کو 1971 میں جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے پھانسی دے دی گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کے 72 سالہ امیر مطیع الرحمان پر نسل کشی اور تشدد سمیت دیگر الزامات تھے جس پر گزشتہ سال سپریم کورٹ نے انہیں سزائے موت کا حکم دیا تھا تاہم مطیع الرحمان کی جانب سے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا جب کہ مطیع الرحمان نے اپیل مسترد ہونے پر بنگلادیشی صدر سے رحم کی اپیل نہیں کی تھی۔
خبر ایجنسی کے مطابق بنگلا دیش کے وزیر قانون نے بتایا کہ مطیع الرحمان نظامی کو 1971 میں جنگی جرائم کے ارتکاب میں پھانسی دی گئی ہے جہاں سینٹرل جیل ڈھاکا میں انہیں تختہ دار سے لٹکایا گیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق مطیع الرحمان کی پھانسی پر ڈھاکا میں ان کے حامیوں نے احتجاجی مظاہرے بھی کیے جب کہ پھانسی سے قبل مظاہروں کے باعث سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے اور سینٹرل جیل جانے والے تمام راستے بلاک کرکے ان پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…