سب سے پہلے مولانا عبدالملک شہید سے دوستی ہوئی تو میں ان کی تیزبین نگاہوں سے بلوچوں کو پہچاننے لگا۔ اگرچہ کوئی بھی قوم سوفیصد اچھی یا بری صفات کی حامل نہیں ہوتی، لیکن مجموعی طورپر مجھے بلوچوں سے پیار ہے، اس کی وجہ ان کا خلوص دل، مہمان‌نوازی و خاطرمدارات اور بے ریا نمازیں ہے۔

یہ قوم اگرچہ قدرت کے غضب سے دوچار خطوں میں رہتی ہے لیکن اس نے ہرگز کائنات کے خالق سے دوری اختیار نہیں کی ہے اور ناشکری کے وبال سے دوچار نہیں ہوئی ہے۔ یہ لوگ اپنی سرزمین پر اجنبی شمار ہوتے ہیں لیکن ہرگز اپنے مدعو اور غیرمدعو مہمانوں سے ترشرو اور بدمزاج نہیں ہوتے۔ دوستی میں سچائی کے نقطہ عروج تک پہنچ جاتے ہیں اور یاری میں شفقت کی انتہا تک جاتے ہیں۔ ان کی عزت نفس بے مثال ہے۔ صابر اور قناعت پسند لوگ ہیںاور اسی حال میں نڈر اور بے باک بھی۔ ان کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے؛ ان کا ادراک ضروری ہے۔ انتہائی خاکسار اور متواضع لوگ ہیں اور اسی حال میں ٹھنڈے مزاج اور پرقوت شخصیت کے حامل بھی۔ جب ان کی مجلس میں بیٹھتے ہو، یوں لگتاہے تم ان کے درمیان ایک علامہ ہو، لیکن جب انہیں بولنے کا موقع ملتاہے تو ان کے سامنے شاگردی کا احساس ہوتاہے۔ بلوچ بولنے سے زیادہ سوچتاہے۔
اللہ کی قسم! افسوس ہے ان پاک و خالص لوگوں پر ظلم و ستم روا رکھا جائے اور بلاوجہ انہیں ’اجنبی‘ سمجھا جائے۔ اخیر سالوں میں (ایران میں) انقلاب کے بعد ان اچھے لوگوں کی کتنی ہی صلاحتیں ایسی ہی پڑی رہیں اور ملک کی ترقی کی راہ میں ان سے استفادہ نہ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق، سیستان بلوچستان یونیورسٹی میں بلوچوں کی افرادی قوت سے استفادہ دوسروں کی بہ نسبت بہت کم ہے۔ اور یہی کہانی ہے دیگر اداروں اور محکموں میں۔ جمہوریت اور ترقی کے سفر میں ایران اس مظلوم قوم کی سوچ اور فکر سے غافل اور بے نصیب نہیں ہوسکتا۔
اپنے آلام و مسائل کے بیان میں بلوچوں کو مجھ جیسے افراد کی ضرورت نہیں، لیکن شرافت اور انسانیت پسندی کا تقاضا یہی ہے کہ میں ہمیشہ بلوچوں سے دوستی پر فخر کروں، ان کے آلام و مصائب کے موقع پر کراہ کرخود کو ان ہی کی برادری کا حصہ سمجھ لوں۔
مجھے بلوچستان سے پیار ہے اس کے تفتان پہاڑ، جلاوطن کیے گئے کردوں، غمناک و اداس آوازوں، لاجوردی سمندر، شاندار نخلستان، حافظان قرآن کی دل کپکپانے والی تلاوت اور جامع مسجد مکی کے شاندار مناروں کے ساتھ۔
بلوچو! مجھے تم سے محبت ہے چونکہ تم دوستی و پیار کے مستحق ہو۔ ہمیشہ سربلند اور پرعافیت رہو۔ میری دعا ہے کسی دن انصاف و برابری کا پرندہ تمہارے کندھوں پر آبیٹھے اور خوشی و سرور کی بلبل تمہارے گھر کی چھتوں پر چہچہہ لگائے۔

تحریر: ڈاکٹر جلال جلالی‌زادہ جو ایرانی اہل‌سنت اور کرد برادری کے ممتاز سیاسی و سماجی رہ‌نما، کردستان سے منتخب سابق رکن پارلیمنٹ (مجلس شورائے اسلامی) اور تہران یونیورسٹی میں فقہ شافعی کے استاذ ہیں۔
اردو میں ترجمہ: سنی آن‌لائن اردو ٹیم

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago