جرمنی میں اسلام مخالف رہنما کےخلاف کارروائی شروع

جرمنی کےشہر ڈریزڈن میں مسلمان مخالف تنظیم پگیڈا کے بانی کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزام میں درج مقدمے کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔
پگیڈا کے 43 سالہ سربراہ لٹز بخمین پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں پناہ گزینوں کے لیےگائے، قابل نفرت لوگ، اور گند جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔
جرمنی میں پگیڈا کے جلسوں میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ ڈریزڈن میں پولیس نے پانچ افراد کو پناہ گزینوں کے خلاف دہشت پھیلانے کی منصوبہ بندی کرنے اور پناہ گزینوں کے ہوسٹلوں پر حملہ کرنے کے الزم میں گرفتار کیا ہے۔
ان گرفتار ہونے والے افراد پر شبہ ہے کہ انھوں نے دھماکہ خیز مواد کے ساتھ فریٹل میں پناہ گزینوں کی رہائش پر حملہ کیا تھا۔ اس گروپ پر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کونسلر کی کار پر حملہ کرنے کا بھی شبہ ہے۔
وزیر داخلہ ٹوماس ڈی میسیر نےکہا ہے کہ حکام نے دائیں بازور کے دہشت گردوں کےگروپ کے خلاف بھرپور کارروائی کی ہے۔
لٹس بخمین کے مقدمے کی سماعت سخت سکیورٹی میں ہو رہی ہے۔
پگیڈا کے بانی کا دعویٰ ہے کہ اس کے خلاف کارروائی کے محرکات سیاسی ہیں۔
پگیڈا کے بانی نے ملک میں سنسرشپ کے خلاف احتجاج کے لیے کالے اور مستطیل شیشوں والی عینکیں پہن رکھی تھیں۔
عدالت کے باہر پگیڈا کے حامی اور مخالفین دونوں موجود تھے۔ کچھ لوگوں نے بینر اٹھا رکھےتھے جن پر درج تھا: ’شرم کرو، بخمین کو رہا کرو۔‘ جبکہ کچھ لوگ نعرے بلند کر رہے تھے کہ بخمین کو سلاخوں کے پیچھے بند کرو۔
2014 میں جرمنی میں شروع ہونے والی پگیڈا کی تحریک اب یورپ کے کئی ممالک میں پھیل چکی ہے۔
گذشتہ برس جرمنی میں پناہ گزینوں کے کیمپوں پر 1005 حملے ہوئے ہیں جو 2014 میں ہونے والے حملوں سے پانچ گنا زیادہ ہیں۔
بخمین کو ماضی میں بھی کئی بار مختلف جرائم میں سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ جیل میں رہ چکے ہیں۔ بخمین کو 1998 کو نقب زنی کے جرم میں تین سال آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن وہ فرار ہو کر جنوبی افریقہ چلے گئے تھے۔
جنوبی افریقہ نے جب بخمین کو جرمنی کے حوالے کیا تو انھوں نے 14 ماہ جیل میں گزارے۔ بخمین کو 2010 میں کوکین رکھنے کے جرم میں دو سال کی معطل سزا سنائی گئی۔
سال نو میں پناہ گزینوں کی جانب عورتوں پر حملوں کے مبینہ واقعات کے خلاف ہونے والے احتجاج میں پگیڈا تنظیم پیش پیش تھی۔
الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ سال نو کی تقریبات کے موقعے پر ہونے والے حملوں کے پچھے شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین شامل تھے جو غیر قانونی طور پر جرمنی میں داخل ہو ئے تھے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ بخمین نے اپنے بیانات کے ذریعے پناہ گزینوں کے وقار کو مجروع کیا اور امن عامہ کو بھی خراب کیا۔
اگر لٹس بخمین پر عائد الزامات ثابت ہو گئے تو انھیں تین ماہ سے پانچ برس کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

بی بی سی اردو

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago