افغانستان کے دارالحکومت کابل کے علاقے پُلی محمود خان میں ایک زوردار خودکش دھماکا ہوا ہے جس کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں اٹھائیس افراد ہلاک اور تین سو بیس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ کئی کلومیٹر دور عمارتوں کے شیشے لرز گئے۔
افغان صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دھماکے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔بیان میں کابل کے علاقے پلی محمود خان میں دہشت گردی کے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
اس سے قبل اُنھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ “یہ حملہ دشمن کو افغان فورسز کے ساتھ دو بدو لڑائی میں شکست کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔”
افغان وزارت صحت کے مطابق تین سو بیس افراد کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے مگر وزارت نے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی ہے۔
جس جگہ دھماکا ہوا ہے وہ رہائشی علاقہ ہے اور اس کے قریب ہی افغان وزارتِ دفاع کی عمارت اور امریکی سفارتخانہ بھی واقع ہے جہاں دھماکے کے بعد سائرن بھی بجائے گئے تاہم سفارتخانے کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے سفارتخانہ متاثر نہیں ہوا۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ذبیح اللہ کا کہنا تھا کہ ان کے جنگجو افغان انٹیلی جنس ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ برائے سیکیورٹی کے دفتر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔عینی شاہدین کا بھی کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد متعدد مسلح افراد ملک کے خفیہ ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کی ایک عمارت میں داخل ہوتے دیکھے گئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…