کیلیفورنیا (امریکہ) میں کل جس مسجد میں آگ لگ جانے سے نماز جمعہ کا کیلیفورنیا ہتمام سڑک کے کنارے کر نا پڑا تھا اس کی چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔
مقامی میڈیا کے اس اندیشے کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جا سکتا ہے کہ مسجد پر یہ “فائر بم” پھینکاگیا ہو۔
ایف بی آئی کے لاس اینجلس آفس کے مطابق وفاقی تفتیش کار بھی مقامی پولیس کے ساتھ واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ کوشیلا ٹاؤن میں واقع اسلامک سوسائٹی آف پام اسپرنگز مسجد میں آگ لگنے کے اس واقعے میں بہرا حال کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ واقعہ کیلیفورنیا میں ہی سان برنارڈینو کے معذورین کے سینٹر پر فائرنگ کے اس واقعے کے دس دن کے اندر پیش آیا ہے جس میں رضوان فاروق اور تاشفین ملک نامی ایک بیاہتا جوڑے نے فائرنگ کرکے 14 لوگوں کو ہلاک اور 22 کو زخمی کردیا تھا۔
خبروں کے مطابق پچھلے برس بھی اس مسجد میں گولیاں چلیں تھیں۔ اتفاق سے اس واقعے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔امریکی آتش نشاں محکمے کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتا یا گیا ہے کہ آگ بجھا نے والے جب جائے واقعہ پر پہنچے اس وقت مسجد میں آگ لگی ہوئی تھی اور شعلے بلند ہو رہے تھے ۔ آگ پر کوئی آدھے گھنٹے میں قابو پالیا گیا ۔ ہرچند کہ کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا لیکن عمارت کو کتنانقصان پہنچا ہے جس کا ابھی اندازہ نہیں لگایا گیا ۔
بصیرت آن لائن
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…