نئے ایمرجنسی قانون کے تحت، فرانس مین تین مساجد کو بند کرکے 332 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
فرانس کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے یہ کاروائی گزشتہ ہفتے پیرس پر دہشت گرد حملوں کے بعد منظور کی جانے والی ایمرجنسی قوانین کے تحت کی ہے۔
وزیر داخلہ برنارڈ کیزنیو کا کہنا ہے کہ حکومت فرانس نے اسلامی بنیاد پرستی کے شبہ میں پہلی بار کسی مذہبی مقام کو بند کرنے کی کارروائی کی ہے۔
پولیس نے پیرس کے مشرق میں واقعہ لگنسور مارن شہر میں بدھ کو ایک مسجد پر چھاپہ مارا اور نو افراد کو گھر میں نظربند کر دیا اور 22 کے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ کیزنیو کے مطابق، دیگر دو مساجد پیرس کے شمال جنوب میں واقع گینیویلرس اور جنوب مشرقی شہر لیون میں واقع تھیں۔
کینزنیو کا کہنا ہے کہ پیرس حملے کے بعد، حکام اب تک ملک بھر میں 2000 سے زائد چھاپے مارچکے ہیں، جس کے دوران 334 اسلحے کو ضبط کیا گیا جن میں سے درجنوں فوجی سطح کا اسلحہ تھا۔
پیرس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی جس میں 130 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
وائس آف امریکہ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار