سعودی عرب کی حکومت نے مغرب میں پناہ گزینوں اور مسلمانوں کے خلاف پیدا ہونے والی حالیہ نفرت اور اس کے نتیجے میں دشمنی اور نسل پرستی کے مظاہر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ریاض حکومت نے مغرب میں مسلمانوں اور مسلمان ملکوں سے آنے والے پناہ گزینوں کے حوالے سے ذرائع ابلاغ اور سیاسی سطح پر اختیار کیے گئے نسل پرستانہ مظاہر کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری، انسانی حقوق کی عالمی تنظمیں اور عالمی ذرائع ابلاغ مسلمانوں کے خلاف نفرت، دشمنی اور نسل پرستی کے واقعات کی روک تھام کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلمان پناہ گزین اپنے ملک کی ظالم حکومتوں اور دہشت گرد تنظیموں سے تنگ آکر دوسرے ملکوں کو بجرت پرمجبور ہیں۔ انسانی جذبے کے تحت ان کی مدد کرنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ انہیں مسلمان سمجھ کرانتقامی کارروائیوں اور نسل پرستی کی بھینٹ چڑھانا کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔
سوموار کے روز ریاض میں شاہ سلمان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاسد کے دوران بھی مغربی ملکوں میں مسلمانوں کے خلاف جاری منافرت پرمبنی پالیسی پربحث کی گئی۔
بعد ازاں کابینہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مصر کے شہر العریش، لیبیا کے الخمیس اور تیونس کے ریپبلیکن گارڈز کی بس پر دہشت گردوں کے حملے کی بھی مذمت کی گئی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار