شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے دس اکتوبر دوہزار چودہ (15ذوالحجہ) میں خطبہ جمعہ کے دوران سلامتی اور امن کو اللہ تعالی کی بڑی نعمتوں میں شمار کرتے ہوئے کہا: ہفتہ پولیس کو پولیس اہلکاروں کی خدمت میں مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ، سراوان میں بعض اہلکاروں کے قتل کی مذمت کرتے ہیں۔ بلاشبہ امن اللہ تعالی کی بڑی نعمتوں میں ایک ہے جس کے سایے میں ترقی ممکن ہے۔ جامعات، مدارس، صنعت، زراعت و تجارت سمیت دیگر شعبوں کی ترقی اور نشوونما اس وقت ممکن ہے جب امن قائم ہو۔
ہمسایہ ممالک پاکستان وافغانستان میں بدامنی کی یلغار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوںنے کہا: ہمارے صوبے کی سرحدیں پاکستان وافغانستان سے ملتی ہیں؛ یہ ممالک ہمارے لیے بہت ہی قابل احترام ہیں لیکن وہاں بدامنی کے واقعات کثرت سے رونما ہوتے رہتے ہیں۔ چنانچہ بعض لوگ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے ملک کو بدامنی کی دلدل میں گرانا چاہتے ہیں۔ ہمارے ملک سے امن برآمد ہونا چاہیے دیگر ملکوں سے بدامنی کی درآمد خطرناک ہے۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: صوبے کی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے امن کا قیام بہت ضروری ہے۔ الحمدللہ موجودہ حکومت اور اس کا صوبائی نمائندہ قابل قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ جب مختلف لسانی ومسلکی برادریوں کو ملک میں خدمت کا موقع دے کر انہیں شریک بنایاجائے گا تب پائیدار امن اور اتحاد حاصل ہوجائے گا۔
بدامنی پھیلانے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے ممتاز سنی عالم دین نے کہا: خطے کا امن محفوظ رہنا چاہیے؛ کسی کو سیستان بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں قیام امن معاشرے کے مختلف طبقوں کا مطالبہ اور دلی خواہش ہے۔ بدامنی پھیلانے سے دشمن اور اجنبی قوتوں کو اپنا اثرورسوخ بڑھانے کا موقع مل جائے گا۔ بدامنی ہی کی وجہ سے آج عراق، شام، لیبیا اور یمن جیسے ملکوں میں دشمن عناصر دخل اندازی کررہے ہیں اور وہاں گولی اور بمباری کی آوازیں عوام کو سونے تک نہیں دے رہی ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: الحمدللہ ایران میں امن کی فضا قائم ہے اور جس کا کوئی مطالبہ ہے وہ قانونی طریقوں سے اپنا مدعا پیش کرے۔
وزارت انٹیلی جنس تجزیوں اور رپورٹوں میں غیرجانبداری اور درستی کا خیال رکھے
اپنے خطاب کے ایک حصے میں ایرانی وزارت اطلاعات (انٹیلی جنس) کے یوم تاسیس کی سالگرہ کے موقع پر مولانا عبدالحمید نے کہا: ہر ملک کو معلومات کی ضرورت پڑتی ہے ورنہ مسائل گھمبیر اور پیچیدہ ہوجائیں گے۔ ایران کی وزارت اطلاعات اس لحاظ سے بہت تجربہ کار ہے اور خطے کے بعض ممالک کی خفیہ ایجنسیوں سے آگے ہے۔
وزارت اطلاعات کی اہم ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خطیب اہل سنت نے کہا: اس وزارتخانے کے عہدیداروں کی ذمہ داری بنتی ہے حقائق کی تشخیص اورانہیں اعلی حکام تک پہنچانے میں کردار ادا کریں جو پالیسی سازی کرتے ہیں۔ نیز اپنے تجزیوں اور رپورٹوں میں غیرجانبداری اور صحت ودرستی کا بہت خیال رکھیں۔ کہیں ان کی رپورٹوں کی بنیاد غلط نہ ہو اور جھوٹی خبریں آگے نہ بھیجی جائیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…