شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے سترہ اکتوبر (بائیس ذوالحجہ) کے خطبہ جمعہ میں مغربی طاقتوں کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا: مغربی ملکوں کے پاس متعدد سہولتیں اور طاقت کے اسباب موجود ہیں، اس کے باوجود وہ ہرگز مسلم ممالک میں امن اور صلح قائم کرنے کے لیے بے تاب نظر نہیں آئے۔ حالانکہ اقوام متحدہ، امن کونسل اور امریکا صلح کے قیام کے لیے آسانی سے اقدام کرسکتے تھے مگر ان اداروں نے ہرگز ایسا نہیں کیا اور یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے۔ الٹا اگر کہیں اختلافات میں شدت پیدا کرنے کا موقع انہیں فراہم ہوا تو انہوں نے دوریوں میں اضافہ پیدا کرنے میں دریغ بھی نہیں کیا تاکہ مسلم ممالک میں قدم جماکر سکیورٹی معاہدے کرائیں۔
انہوں نے مزیدکہا: مغربی طاقتوں کی خواہش ہے مسلم ممالک ہمیشہ ان کے دست نگر ہوکر ان سے وابستہ رہیں۔ لیکن مسلم حکام کے لیے سب سے اچھا یہی ہے کہ اللہ تعالی کی طرف دستِ نیاز پھیلائیں اور مسلمانوں سے وابستگی اختیار کریں، اسی صورت میں ان کے مسائل حل ہوسکیں گے۔
مسئلہ فلسطین کے حل کے بغیر انتہاپسندی کا مقابلہ کامیاب نہیں ہوسکتا
ممتاز سنی عالم دین نے مسئلہ فلسطین کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: جس طرح پہلے بھی میں نے کہاہے، خطے میں تمام انقلابات اور اسلامی بیداری کی اصل وجہ اہل فلسطین پر ظلم وجور اور آمریت و سربریت ہے۔
بعض ممالک کی جانب سے فلسطین کو ایک مستقل ریاست تسلیم کرنے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: ایک سو سے زائد ممالک نے فلسطین کو مستقل ریاست تسلیم کی ہے جبکہ حال ہی میں سوئیڈن اور برطانیہ کی مجلس سفلی نے بھی فلسطین کو مستقل ریاست مان لیاہے جو ایک خوش آیند امر ہے۔ یہ ایک بڑی تبدیلی ہے؛ اس کا مطلب ہے دنیا کی اقوام اس نتیجے پر پہنچ چکی ہیں کہ فلسطینی قوم کا مسئلہ قانون اور منطق سے حل کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزیدکہا: جب تک دنیا والے مسئلہ فلسطین کا کوئی حل نہ نکالیں تو دنیا میں مکمل امن قائم ہوگا نہ ہی شدت پسندی کا سدِباب ہوگا۔ بمباری اور بندوق کی نوک پر دنیا امن کا گہوارہ نہیں بن سکے گی، انصاف کی فراہمی اور مذاکرات ومکالمے کی فضا پیدا کرنی چاہیے۔
مولانا نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: اگر اسرائیل قبضہ گیری کا خاتمہ کرکے فلسطینی علاقوں سے نکل جائے، یہودیوں کی آبادکاری اور فلسطینیوں کی بیخ کنی و قتل وغارت سے دستبردار ہوجائے تو یقینا دنیا میں امن سے رہ سکے گا۔ میرے خیال میں اسرائیل نے جنگ اور قبضے کا آغاز کیاہے اور اس کے خاتمے کے لیے بھی اسی کو پہل کرنی چاہیے۔ اگر ایسا ہوجائے تو شک نہ کریں کہ انتہاپسندی و شدت پسندی کو لگام لگانے میں اس سے بڑھ کر کوئی اقدام نہیں کیاجاسکتا۔
گیارہ ستمبر کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: نائن الیون کے واقعہ امریکا کے لیے بہت بڑی مصیبت تھی۔ ہم نے امریکی عوام سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا اور اس حملے کی مذمت بھی کی جہاں نہتے شہری مارے گئے۔ لیکن امریکی حکام کو سوچنا چاہیے ان کے ملک سے اتنی نفرت کیوں کی گئی اور اس سانحے کی اصل وجوہات کیا ہیں؟ امریکیوں نے اس بارے میں سوچنے کے بجائے الٹا افغانستان و عراق پر اپنی فوجیں اتاریں اور معصوم لوگوں کو لہولہاں کیا۔ چنانچہ نہ صرف ان کے دشمن ختم ہوئے بلکہ ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔ مغربی حکام کو اپنی پالیسیاں بدلنی چاہییں۔
مولانا نے کہا: اسلام امن ، رحمت، صلح اور غیرت کا دین ہے غلامی ، بزدلی اور بے غیرتی کا نہیں! تمام دنیا والے ہمارے ساتھ پرامن زندگی گزارسکتے ہیں جب تک ہماری سرزمینوں پر قبضہ نہ کریں۔
مسلم حکام مغرب کے بجائے اپنی ہی قوموں سے وابستہ رہیں
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں مسلم حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مغربی طاقتوں سے وابستگی اور ان کے دستِ نگر رہنے سے ہرگز تمہیں کامیابی اور امن و سکون نصیب ہوگا۔ اپنے ہی لوگوں اور عوام کا سہارا لے لیں، ان کے حقوق کا خیال رکھیں اور اپنے لوگوں کی باتیں سنیں اور مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھیں۔ مسلم حکام کے لیے یہ بدرجہا بہتر ہے کہ ایک دوسرے کی خاطر تواضع کریں نہ کہ مغرب کے سامنے گردن جھکائیں۔ بعض حکام مسلمانوں جیسا لباس اوڑھ کر انہیں دھوکہ دینا چاہتے ہیں اور ان کی سوچ غیراسلامی ہے۔
مسلمانوں کے مسائل کا راز ایمانی و دینی ترقی میں ہے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے پہلے حصے میں مسلمانوںکی دینی و ایمانی ترقی پر زورد یتے ہوئے کہا: آج اگر مسلمان قومیں تشتت اور فرقہ واریت جیسے مسائل سے نالاں ہیں تو اس کی اصل وجہ قرآن وسنت کی تعلیمات سے دوری ہے۔ مسلم اقوام دینی پس ماندگی کا شکار ہیں، جب تک اس پس ماندگی کا ازالہ نہ ہو تو مسائل و مشکلات سے نجات ناممکن ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: اسلام ہمیں بہترین اخلاق اور تعلیمات سے روشناس کراتاہے۔ اسلام انصاف کا دین ہے اور اسی انصاف کی برکت سے صدراسلام میں لوگ جوق درجوق مشرف بہ اسلام ہوئے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے مجمع عام میں ایک بوڑھی عورت کا اعتراض مان لیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے مقرر کردہ قاضی کا حکم قبول کیا؛ یہ اسلام کے انصاف کی مثالیں ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…