امریکی فوجی ترجمان ریئر ایڈمرل جان کربی نے بی بی سی کو بتایا کہ شام میں بمباری سے دولتِ اسلامیہ کی صلاحتیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
امریکی فوج کی طرف سے یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صدر براک اوباما نے مدد کرنے کے لیے عرب ممالک کا شکریہ ادا کیا اور امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ 50 سے زائد ممالک نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شرکت کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔
دولتِ اسلامیہ نے شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر کھا ہے اور امریکہ نے اگست سے اب تک ان کے خلاف 200 سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔
امریکی نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف اپنی مہم کو وسیع کرتے ہوئے پیر کو پہلی دفعہ شام میں فضائی کارروائیاں کیں۔
سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں دولتِ اسلامیہ کے کم از کم 70 اور القاعدہ کے دیگر 50 ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔
واشنگٹن میں بات کرتے ہوئے ریئر ایڈمرل جان کربی نے کہا کہ شام میں فضائی کارروائی سے دولتِ اسلامیہ کی صلاحیتیں کم ہو گئی ہیں۔
ہمارے خیال میں ہم نے اپنے ہدف پر نشانہ لگایا ہے۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ اپنے آپ کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنے میں تیز نکلی۔ ان کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے ’دنوں یا مہینوں‘ میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔
فوجی ترجمان نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کے لیے سب کی طرف سے سنجیدہ کوششیں کرنی پڑیں گی۔ یہاں ہم اس جنگ میں کئی سال لگنے کی بات کر رہے ہیں۔‘
دریں اثنا امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری نے صحافیوں کو بتایا کہ 50 سے زائد ممالک نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم ان دہشت گردوں کو کہیں پر بھی محفوظ ٹھکانے بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
اس سے پہلے منگل کو امریکی صدر براک اوباما نے دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں میں عرب ممالک کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’جنگ صرف امریکہ کی نہیں ہے‘۔
امریکی صدر نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان حملوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، اور قطر نے یا تو حصہ لیا یا پھر امریکہ کو ان ممالک کا تعاون حاصل تھے۔
براک اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ کو فخر ہے کہ ان ممالک کے ساتھ مل کر دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…