حکام کے مطابق حملے کے دوران ایک خودکش بمبار نے اپنے آپ کو اْڑایا جبکہ مسلح افراد نے بھاگتے ہوئے نمازیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔
صوبہ دیالہ حالیہ ہفتوں میں دولتِ اسلامیہ کے عسکریت پسندوں اور عراقی فوج کے درمیان میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔ شیعہ ملیشیا عراقی فوج کی حمایت کر رہی ہے۔
اس حملے کو حکومت کی طرف سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے سنی گروپوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کو ایک بڑا دھچکہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ حملہ ملک کے دارالحکومت بغداد سے تقریباً 120 کلو میٹر کے فاصلے پر بقوبہ شہر کے جنوب میں ایک گاؤں کے مسجد پر ہوا۔
ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حملہ حکومت کی حامی شیعہ ملیشیا نے اپنے جنگجوؤں پر ہونے والے ایک بم حملے کا بدلہ لینے کے لیے کیا۔
عراق کے سبکدوش ہونے والے وزیرِ اعظم نوری المالکی پر جنھیں ملک میں تقسیم پیدا کرنے والے شخص کے طور پر دیکھا جاتا ہے، بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کے بعد معتدل خیالات رکھنے والے نامزد شعیہ وزیرِ اعظم حیدر العبادی سب گروپوں کو ملا کر حکومت بنانے کی تگ و دو میں ہیں۔ نوری المالکی کو ملک میں
لیکن دو بااثر سنی سیاستدانوں، پارلیمان کے سپیکر سلیم الجابوری اور نائب وزیرِ اعظم صالح المطلق نے جمعے کو ہونی والی خونریزی کے بعد نئی کابینہ کے لیے ہونے الی بات چیت کو معطل کر دیا ہے۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…