غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیٹو فورسز نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی پالیسی کے تحت واقعہ سے متعلق تفصیلات بتانے سے انکار کردیا۔ نیٹو پالیسی کے مطابق مرنے والے اہلکاروں کی تفصیلات اُن کے ملک کے علاوہ کسی اور کو نہیں بتائی جاسکتی۔ زابل پولیس کے سربراہ جنرل غلام سخی کے مطابق پیر کی صبح افغان فوج اور نیٹو فورسز کے اہلکار مشترکہ آپریشن کے بعد واپس جارہے تھے کہ ان پر حملہ ہوا۔
دوسری جانب افغان طالبان نے نیٹو فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے جنوبی صوبے زابل کے ضلع ارغنداب میں فورسز پر حملے کے نتیجے میں افغان اور نیٹو فورسز کے متعدد اہلکار مارے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان میں نیٹو فورسز پر تازہ حملے میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد اِس سال افغانستان میں مرنے والے نیٹو فورسز کے اہلکاروں کی تعداد 37 ہوگئی ہے جس میں 9 سروز ممبر بھی شامل ہیں۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…